مفتی حمیداللہ جان کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

مفتی حمیداللہ جان کا فتویٰ


شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھنے والے شخص کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین ایسے شخص کے بارے میں جو مندرجہ ذیل عقائد رکھتا ہے۔

1: شیعہ سنی دونوں مؤمن بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں، شیعہ سنی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں، ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتے، شیعہ سنی ایک جسم کی دو آنکھیں ہیں، ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، شیعہ مسلمان ہیں جو ان کو کافر کہیں گے وہ شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں، شیعہ اسلام کی تبلیغ کر سکتا ہے، شیعہ مسلمان کی اصلاح بھی کر سکتا ہے اور عقائد کی اصلاح بھی کر سکتا ہے۔

2: ایسے گروہ کے بارے میں جو اپنے آپ کو سنی کہلائے لیکن شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھے، مشرک اور کافر کے لیے دعائے مغفرت کو جائز سمجھے۔

3: اسلام نبی کریمﷺ کے بعد کسی شخص کا یہ مقام تسلیم نہیں کرتا کہ اس کی بات حرفِ آخر ہے، وہ خلفائے راشدینؓ کو بھی مجتہد کے درجہ میں تسلیم کرتا ہے جن کی ہر بات میں خطا اور ثواب دونوں کا احتمال موجود ہے، اور ان کے کسی بھی فیصلے اور رائے سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔

4: ہمارا مذہب اسلام صرف رسومات کا مجموعہ ہے اس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام کا تعلق روحانی دنیا سے ہے، یہ ذاتی معاملہ ہے، اس کی جزا و سزا کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

5: اسلام مذہبی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے معبودوں کے خلاف بولنے سے روکتا ہے، دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور احترام کے رویئے کی خصوصی تلقین کرتا ہے اگرچہ یہودی ہی کیوں نہ ہو۔

6: علاقائی رسومات پر شریعت کے منافی ہونے کا فتویٰ نہیں لگانا چاہیے۔

7: ایک غیر مسلم چیف جسٹس اگرچہ سکھ ہو اسلامی قانون، اسلامی نظامِ عدالت کا دفاع کر سکتا ہے، اور یہ دینی حلقوں کے دلوں میں جگہ بھی بنا سکتا ہے۔

8:جمہوریت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر موجود ہے۔

جواب: بشرطِ صحتِ سوال مذکورہ بالا عقائد کا مجموعہ رکھنے والا شخص زندیق، کافر و مرتد ہے جو شریعت کو اپنے تابع کرنا چاہتا ہے، اس کے بعض عقائد نصوصِ قطعیہ کے خلاف ہیں۔

قال اللہ تعالیٰ: مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ (سورۃالتوبہ: آیت 113)

وقال اللہ تعالیٰ: يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌

وَفِی ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ دَلَالَۃٌ عَلٰی اَنَّ الْکَافِرَ لَا یَکُوْنُ وَلِیّاً لِلْمُسْلِمِ لَا فِی التَّصَرُّفِ وَلَا فِی الْمَنْصَرَّۃِ وَیَدُلُّ عَلٰی وُجُوْبِ الْبَرَاءَۃِ مِنَ الْکُفَّارِ وَالْعَدَاوَۃِ لِاَنَّ الْوِلَایَۃَ ضِدَّ الْعَدَاوَۃِ فَاِذَا اُمِرْنَا بِمُعَادَاۃِ الْیَھُوْدِ وَالنَّصٰرٰی لِکُفْرِھِمْ فَغَیْرُھُمْ مِنَ الْکُفَّارِ بِمَنْزِلَتِھِمْ وَیَدُلُّ عَلٰی اَنَّ الْکُفْرَ کُلَّہُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ۔ (احکام القرآن للجصاص: جلد 2 صفحہ 622)

و یعجب اکفار الروافض فی قولہم برجعة الاموات الى الدنيا و بتناسخ الارواح وبانتقال روح الاله الى الائمة وبقولہم فى خروج امام باطن وبتعطيلہم الامر والنهى الى ان يخرج الامام الباطن(الہنديہ: جلد 2 صفحہ 264)

قلت الزنديق من يحرف فى معانى الالفاظ مع ابقاء الاسلام فهذا هو الزنديق حقاً اى التغيير فى المصاديق وتبديل المعانى على خلاف ما عرفت عند اهل الشرع وصرفها الى اهوائه مع ابقاء اللفظ على ظاهره، والعياذ بالله:(فيض البارى: جلد 4 صفحہ 472)

والحاصل ان الايمان محله القلب والاسلام موضعه القلب والجسد الكامل منهما يتركب او الدين اسم واقع على الايمان والاسلام والشرائع كلها اى الاحكام جميعها والمعنى ان الدين اذا اطلق فالمراد به التصديق والاقرار وقبول الاحكام للانبياء عليهم الصلوة والسلام(شرح الفقہ الاكبر: صفحہ 90)

ويكفر اذا انكر آية من القرآن او سخر بآية منه(البحر الرائق: جلد 5 صفحہ 205)

ومن اعتقد الحرام حلالاً او على القلب يكفر: 

(الہنديہ: جلد 2 صفحہ 274)

والاسلام هو القيام بالاقرار وعمل الابرار فى مقام التوفيق

(شرح الفقہ الاكبر: صفحہ 90، ارشاد المفتين: جلد 1 صفحہ 91)