سوال: اگر شیعہ، سنیوں کی مسجد تعمیر کرے یا سنی کسی مسجد کی تعمیر پر شیعوں سے رقم لے کر خرچ کریں تو کیا یہ ٹھیک ہے یا نہی؟ حالانا باتفاق علماءِ اہلِ سنت شیعہ کافر ہیں تو کیا کفار مساجد تعمیر کر سکتے ہیں؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ بِالـكُفۡرِ اُولٰۤئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ وَ فِى النَّارِ هُمۡ خٰلِدُوۡنَ (سورۃالتوبہ: آیت 17)
تو کیا ایسی مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو قرآنِ مجید اور احادیث کے حوالوں سے جواب دے کر مطمئن فرمائیں؟
جواب: غیر مسلم کی تعمیر کردہ مسجد، مسجدِ شرعی نہیں اور شیعوں سے اپنی مسجد کے لیے چندہ لینا بھی مناسب نہیں۔ (خیر الفتاوىٰ: جلد 6 صفحہ 432)