كبھى شيعہ کبھی سنی بن جانے والے کی امامت - فتاویٰ جات |…

كبھى شيعہ کبھی سنی بن جانے والے کی امامت


سوال: ایک شخص عرصہ تک سنیوں کا امام رہا پھر ایک شیعہ نے اس کو لالچ دے کر شیعہ بنا لیا اس دوران وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برسرِ عام گالیاں دیتا رہا پھر اس کو ایک سنی راہِ راست پر لے آیا ایک سال امامت کرانے کے بعد پھر شیعہ ہو گیا اب پھر سنیوں کی مسجد میں امامت کراتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ 

جواب: ایسے شخص کی اقتداء سے احتراز لازم ہے، جس کو اپنے دین کی حفاظت کا ذرہ بھی خیال نہ ہو اور لالچ کی خاطر کبھی شیعہ بن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبراء کرے اور سنیوں سے نفع ملنے کی توقع ہو تو اپنے آپ کو سنی کہلوانا شروع کر دے ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے سنی رہ کر شیعہ کو نماز نہیں پڑھا سکتا البتہ شیعہ رہ کر تقیہ کے طور پر سنیوں کو نماز پڑھا سکتا ہے لہٰذا سنیوں کی نماز اس کے پیچھے نہیں ہو سکتی۔  (خیر الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 333)