روافض کو ہرگز اہل سنت کی مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے -…

روافض کو ہرگز اہل سنت کی مساجد میں داخل نہ ہونے دیا جائے


سوال: ہمارے چک نمبر 104 ای. بی، میں اکثریت سنیوں کی ہے اور تھوڑے سے گھر شیعوں کے ہیں شروع سے اس میں اہلِ سنت و الجماعت اذان واقامت کے ساتھ نمازیں ادا کرتے آئے ہیں، اور پیش امام بھی ہمیشہ سے جب سے مسجد بنی ہے آج تک اہلِ سنت و الجماعت کا ہوتا ہے چند دن قبل شیعوں نے اسی مسجد میں اپنی اذان و اقامت شروع کر دی، اور اپنی جماعت بھی کرانی شروع کر دی، یعنی دو اذانیں اور دو جماعتیں ہونے لگیں اہلِ سنت کی بھی اور اہلِ تشیع کی بھی کچھ فساد ہوا تو عدالت نے مسجد سیل کر دی اس کے بعد عدالت بورے والا سے اے سی صاحب نے فیصلہ فرمایا کہ مسجد اہلِ سنت و الجماعت کی ہے اس میں نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں مگر شیعوں نے پھر اپیل کر رکھی ہے کہ ہمیں بھی جماعت کرانے کی اجازت دی جائے اب آپ فرمائیں کہ اہلِ سنت کی مسجد میں شیعہ اپنی اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرا سکتے ہیں یا نہیں؟ شیعہ کہتے ہیں ہم نے مسجد میں چندہ دیا ہے اس لیے ہمارا حق ہے۔ 

جواب:روافض کو مساجد اہلِ سنت میں آنے سے روکنا جائز ہے نیز ان کو اجازت دینے میں فسادات کا دروازہ کھولنا ہے کیونکہ اہلِ سنت کے پیشواؤں کو برا کہنا ان کے مذہب کا جزو ہے بناء علیہ شریعت و انتظام کا تقاضا یہی ہے کہ ان کو سنیوں کی مسجد میں آنے سے روکا جائے چندہ دینے سے استحقاق ثابت نہیں ہوتا کسی مسجد میں دوسرے فرقے کو دوسری اذان و جماعت کی اجازت دینا فساد و خون ریزی کو دعوت دینا ہے، چہ جائیکہ شیعوں کو اہلِ سنت و الجماعت کی مساجد میں اس کی اجازت دی جائے یہ ہرگز جائز نہیں۔ 

(خیر الفتاوىٰ: جلد 2 صفحہ 733)