صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف غلط عقائد رکھنے…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف غلط عقائد رکھنے والے کو امام نہیں بنانا چاہیے


سوال: ایک شخص کا عقیدہ اس طرح کا ہے کہ

1: حضورِ اقدسﷺ کے متعلق کہتا ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کو اپنے زمانے میں اندیشہ تھا کہ شاید دجال آپﷺ کے عہد میں ظاہر ہو جائے یا اس کے بعد کسی قریبی زمانہ میں ظاہر ہو جائے لیکن ساڑھے تیر سو سال کی تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ حضورِ اکرمﷺ کا اندیشہ صحیح نہیں تھا۔ (معاذاللہ) 

2: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا یہ پہلا غلط کام تھا اور غلط کام بہر حال غلط ہے خواہ کسی نے کیا ہو اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہ عقل و انصاف کا تقاضا ہے اور نہ ہی دین کا مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے۔ (معاذاللہ) 

3: سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق لکھتے ہیں کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے معاملہ میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ و سنت رسولِ اکرمﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔ (معاذاللہ) 

4:حضراتِ امہاتُ المؤمنینؓ کے خلاف لکھتے ہیں کہ حضورِ اقدسﷺ کے مقابلہ میں جری ہوگئی تھی اور زبان درازی کرنے لگیں۔ (معاذاللہ)  

اب کوئی شخص اس قسم کا عقیدہ رکھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقائض بیان کرے تو اس کے پیچھے نماز و جمعہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: شخصِ مذکور کے عقائد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اہلِ سنت و الجماعت کے خلاف ہیں اس لیے اس کو امام نہیں بنانا چاہیے۔  (خیر الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 350)