مولانا خير محمد جالندھری و دیگر مفتيانِ خير المدارس ملتان…

مولانا خير محمد جالندھری و دیگر مفتيانِ خير المدارس ملتان کا فتوىٰ


مسجد میں تعزیہ رکھنا:

سوال: مسجد میں تعزیہ، یا تعزیہ کا کوئی حصہ وغیرہ رکھنا شریعت میں جائز ہے یا ناجائز؟ 

جواب: اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک تعزیہ اور اس کی تعظیم کرنا اور اس کو یا اس کے کسی حصہ کو مسجد میں رکھنا ناجائز ہے بلکہ تعزیہ کو دیکھنا اگرچہ نظرِ تماشاہی ہو جائز نہیں۔ 

حضرت مولانا عبد الحی رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ روض مقدسہ نبویہ کی صورت یا شبیہہ حصولِ ثواب کی غرض سے بنانا بدعت اور ناجائز ہے اور اس وجہ سے کہ زمانہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین و ائمہ مجتہدین میں باوجود قعِ ضرورت کے یہ صورت نہیں پائی گئی حالانکہ صدہا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین روضہ نبوی کے مشتاق رہتے تھے مگر کسی نے ایسا نہیں کیا کہ آپﷺ کے روضہ کی شبیہہ بنا کر اس سے برکت حاصل کر لیا جاتا۔ 

اولاً:جب روضہ نبویہ کی شبیہہ بنانا ناجائز ہوا تو سیدنا حسینؓ کے روضہ کا شبیہہ بنانا اور اس کی صورت بنا کر اس سے مرادیں مانگنا کیسے جائز ہوگا۔ 

ثانياً: اس وجہ سے کہ کسی متبرک شئے کی صورت اور شبیہہ کو اس شئے کا حکم دے دینا اور حصولِ ثواب کا طلب کرنا باطل ہے۔

سوال: تعزیہ کو دیکھنا نہ بنظرِ اعتقاد نہیں بلکہ بنظرِ تماشا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب: تعزیہ میں تماشاہی کیا ہے بدعت کو نہ دیکھنا چاہیے بلکہ زبان یا ہاتھ سے اس کے دفع کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور اگر یہ نہ کر سکیں تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ضعف ایمان کی دلیل ہے۔ 

 سوال: تعزیہ سے مراد چاہنا درست ہے یا نہیں؟

جواب:نہیں کیونکہ نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے اور نہ تم کو کسی شئے سے بے پرواہ کر سکتا ہے اگر تعزیہ سے مراد چاہنے والا یہ سمجھے کہ تعزیہ اس کی مراد پوری کر سکتا ہے تو کافر ہے۔ 

مولانا شاہ عبد العزیز رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ نودہ شانزدهم صورت چیزے را حکم آں چیز دادن و ایں وهم اکثر راه بت پرستان زده و آنها را در ضلالت افگنده و اطفال خود سال هم دریں و هم بسیار گرفتار باشند الخ۔

ان حوالہ جات سے صاف معلوم ہوا کہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے اس کی تعظیم کرنا بھی ناجائز ہے اس کو مسجد میں تعظیماً رکھنا بھی ناجائز ہے اور یہ اعتقاد رکھنا کی تعزیہ ہماری مراد پوری کر سکتا ہے یہ کفر ہے۔ (خیر الفتاوىٰ: جلد 1صفحہ 567)