صحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی سنگین گناہ اور…

صحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی سنگین گناہ اور عظیم جرم

  مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری مدیر ماہنامہ الاصلاح کریم نگر

صفحہ 2 از 2
علامہ ابنِ تیمیہؒ نے ’’شرح عقیدۃ واسطیۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ: 
کہ اہلِ سنت کے اصولِ عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔
علامہ سفارینیؒ نے اپنی کتاب ’’الدرۃ المضیۃ ‘‘ میں فرماتے ہیں: 
والذی اجمع علیہ اھل السنۃ والجماعۃ انہ یجب علی کل احد تزکیۃ جمیع الصحابۃ باثبات العدالۃ لھم والکف عن الطعن فیھم والثناء علیھم فقـد اثنی اللہ سبحانہ علیھم فی عدۃ اٰیات من کتابہ العزیز۔
ترجمہ: یعنی اہلِ سنت والجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پاک صاف سمجھے، ان کے لیے عدالت ثابت کرے، ان پر اعتراضات کرنے سے بچے اور ان کی مدح و توصیف کرے، اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز کی متعدد آیات میں ان کی مدح کی ہے۔ 
عقائد کی مشہور درسی کتاب’’ عقائد نسفیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ:
ویکف عن ذکر الصحابۃ إلّا بخیر۔
یعنی اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر بجز خیر اور بھلائی کے نہ کرے۔(تلخیص از: مقامِ صحابہؓ)
گستاخِ صحابہ کا عبرتناک انجام
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی خاتمہ بالخیر سے محرومی کا باعث ہوتی ہے، چناں چہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ایک واقعہ لکھا ہے: ایک شخص پر موت طاری ہوئی، اسے کہا گیا کہ لا الہ الا اللہ کہو، اس نے کہا میں نہیں کہہ پا رہا ہوں، کیوں کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ رہتا تھا جو مجھے حکم دیتے تھے کہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر (رضی اللہ عنہما) کو گالی گلوچ کرو۔
(شرح الصدور فی احوال الموتی القبور: صفحہ، 38 مصر)
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی توہین کرنے والے کو سزا بھی اللہ نے دنیا ہی میں دی اور انسانوں کے لیے نمونۂ عبرت بنایا۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کوفہ کے گورنر تھے، کچھ لوگوں نے ان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور دربارِ خلافت میں ان کی شکایت بھیجنا شروع کر دیں۔ سیدنا عمرؓ نے ایک تحقیقاتی ٹیم ان شکایت کنندگان کے ہمراہ بھیجی، اس ٹیم کے ارکان نے کوفہ کی تمام مساجد میں جا جا کر معاملات کی تحقیق شروع کی، لیکن کسی بھی جگہ سے کوئی ایک شکایت بھی درست ثابت نہیں ہوئی، صرف ایک مسجد میں ایک شخص ابوسعدہ نے الزام لگایا کہ: 
’’بخدا سیدنا سعدؓ نہ تقسیمِ اموال میں انصاف سے کام لیتے ہیں، نہ عدالتی فیصلوں میں انصاف کرتے ہیں اور نہ کفار کے خلاف جنگوں میں نکلتے ہیں۔‘‘
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فرمایا:
’’اے اللہ اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کی عمر دراز کر، اس کے فقر کو بڑھا دے، اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بہت بوڑھا دیکھا، بڑھاپے کی وجہ سے ان کی پلکیں آنکھوں پر گری ہوتی تھیں، فقر سے بدحال تھا اور راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑتا تھا۔ جب اس سے پوچھتے کہ کیا حالت ہو رہی ہے تو کہتا:
’’میں فتنہ میں مبتلا بڈھا ہوں، مجھے سیدنا سعدؓ کی بددعا لگ گئی ہے۔‘‘
(اولیاء اللہ کی اہانت کا وبال: صفحہ، 54)
آخری بات
نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مبارک نفوس کو انسانوں کے لیے ہدایت کے جگمگاتے ستاروں سے تعبیر فرمایا کہ جس طرح رات کی اندھیری میں انسان ستاروں کی روشنی سے منزل تک پہنچتا ہے اسی طرح کفر کی تاریکیوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہستیاں مشعلِ ِہدایت ہیں۔
آپﷺ نے فرمایا: 
اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم۔
(مشکوٰۃ مع المرقاۃ: حدیث نمبر، 6018)
ترجمہ: ’’میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی مانند ہیں پس تم ان کی پیروی کرو ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔‘‘
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب و احترام ہر ایک کے لیے ضروری ہے، جو کوئی ان کی بے ادبی یا گستاخی کرے گا وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو گا اور آخرت میں رسوا و نامراد ہو گا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و اخلاق، کردار و اوصاف کو اپنانا اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر منزلِ مقصود کو پانے کی فکر و کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یقیناً جسے اپنے نبی سرورِ کونینﷺ سے محبت ہو گی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی ضرور محبت کرے گا، دین کو ہم تک پہنچانے اور انسانوں تک نبی کریمﷺ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا تصور بھی ہمارے دلوں میں عقیدت و محبت کے جذبات کو موجزن کر دیتا ہے۔ ہمارے گھرانوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و واقعات کے تذکرے ہونے چاہئیں، ہمارے نوجوانوں کو چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالاتِ زندگی سے سبق لیں اور ایک بامقصد زندگی گزارنے والے بنیں۔

صفحہ 2 از 2