دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری…

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری کا فتویٰ (سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ہندوستان)


صفحہ 5 از 5

ب: ایسے شخص کے انتظام و انصرام میں چلنے والے مدرسہ میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لیے بھیجنا فسادِ عقیدہ کے اندیشہ کی وجہ سے قطعاً جائز نہیں ہے۔

ج: مسلمانوں کے لیے ایسے شخص کو مقتدا ماننا، اس کی تقریر سننا، تحریر پڑھنا اور اس کے دُروس میں شریک ہونا نہ صرف یہ کہ ناجائز ہے بلکہ ایمان کے لیے سخت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔

د: ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔


صفحہ 5 از 5