دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری…

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری کا فتویٰ (سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ہندوستان)


صفحہ 4 از 5

نیز ایک دوسرے سوال کہ جس کتاب میں سیدنا امیر معاویہؓ کی عظمت و عزت کا لحاظ نہ کیا گیا ہو، بلکہ ایک قسم کی توہین ٹپکتی ہو اُس کتاب کا پڑھنا اور جس کا عقیدہ اُس کے موافق ہو اُس کا امام بنانا کیسا ہے؟ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو کہ صحابی، کاتبِ وحی تھے اور حضورِ اکرمﷺ نے ان کے لیے دعاء فرمائی جیسا کہ کتبِ احادیث سے ظاہر ہے، ان کی شان میں ایسے الفاظ لکھنا نہایت سوءِ ادبی اور لکھنے والے کے فسادِ عقیدہ کی دلیل ہے۔ پس ایسی کتاب کا دیکھنا اور اس پر عقیدہ رکھنا درست نہیں اور جس کا عقیدہ ایسا ہو وہ لائقِ امام بنانے کے نہیں ہے، اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور اس کو معزول کر دیں۔

فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ لکھتے ہیں کہ جن مقدس ہستیوں کو رسولِ اکرمﷺ نے امین قرار دیا، آج ان کے متعلق یہ بحث کرنا کہ ان سے گناہ صادر ہوئے تھے اور انہوں نے فلاں فلاں گناہ کیے ہیں، درحقیقت ان کی امانت و ذمہ داری کو مجروح کر کے ان سے بے اعتمادی پیدا کرنا ہے جس کی زد حضورِ اکرمﷺ پر جا کر پڑتی ہے کہ (معاذاللہ) آپﷺ نے نااہلوں پر اعتماد فرمایا اور اتنی بڑی امانت کی ذمہ داری ان کے سر ڈالی جس کے وہ اہل نہیں تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارا دین مندوح و ناقابلِ اعتماد ہو جائے گا۔ نیز فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی نہ کی جائے کہ ایمان کے لیے خطرہ ہے۔

5: مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان جو کچھ واقعات پیش آئے، وہ اجتہاد پر مبنی تھے، اس کی بنیاد پر کسی کی تفسیق و تنقیس کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرنا چاہیے اور ان کی شان میں کوئی ایسی بات ہرگز نہیں کہنی چاہیے جس سے ان کی تنقیس ہوتی ہو۔

خطا ہو جائے، بلکہ یہ ثابت ہے کہ اس کو ایک اجر ملے گا اور درست اجتہاد کرنے والا دوہرے اجر کا مستحق ہوگا۔ اسی طرح کی بات علامہ عینیؒ نے بھی لکھی ہے۔

علامہ ابن الہمامؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ، سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔ امام غزالیؒ نے بھی "احیاء علوم الدین" میں اسی طرح کی بات لکھی ہے۔

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہل سنت سکوت اختیار کرتے ہیں۔

امام قرطبیؒ نے اس سلسلے میں اہل سنت کے مسلک کی بہترین رہنمائی کی ہے، لکھتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے، اس لیے کہ ان سب حضرات نے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ تعالیٰ جل شانہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے سے کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت و عظمت کی چیز ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔

ملا علی قاریؒ نے "شرح فقہ اکبر" میں لکھا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں جو باتیں باطل اور جھوٹی ہیں ان کی طرف کوئی التفات نہیں کیا جائے گا اور جو باتیں صحیح و ثابت ہیں ان کے بارے میں اچھی تاویل کی جائے گی۔

6: پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علم حدیث کا ایک اہم جزء ہے جیسا کہ "مقدمہ اصابہ" میں حافظ ابن حجرؒ نے اور "مقدمہ استیعاب" میں حافظ ابن عبدالبر نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ اور صحابہ کرامؓ کے باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلہ کو علمائے امت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے، ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہو اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہو، اس کے فیصلے کے لیے بھی ظاہر ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسے شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصولِ تنقید پر رکھنا واجب ہے، اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے، وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں، اس کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔

سلف و خلف اور متقدمین و متأخرین اصولین، فقہاء اور اکابر کی مذکورہ واضح تصریحات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرامؓ کی عدالت و ثقاہت اور ان کا جرح و تنقید سے بالاتر ہونا قرآنی آیات اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ نصوص اپنی دلالت میں صریح و مستحکم ہیں، یہ اہل سنت والجماعت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے، جس پر جمہور امت کا اجماع ہے اور ان کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے، ان کو اجتہادی قرار دیتے ہوئے سکوت اختیار کرنا اور کسی بھی صحابی کی شان میں منفی تبصرہ کرنے سے احتراز کرنا بھی اہل سنت کا مذہب ہے۔

مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

الف: سوال نامے کے ساتھ تحریر و تقریر کے جو اقتباسات منسلک کیے گئے ہیں، ان کو پڑھنے سے واضح ہے کہ مذکورہ شخص کے عقائد و نظریات جمہور اہل سنت والجماعت کے قطعاً خلاف ہیں اور موجبِ فسق ہیں اور منسلک صفحات میں جن نصوص سے استدلال کیا گیا ہے، وہ قطعاً درست نہیں ہے، یہ محض کم علمی اور کج فہمی سے عبارت ہے۔

برملا صحابہ کرامؓ کی شان میں باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنا اور ان کی تنقیس و تفسیق براہِ راست ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہے، ایسے نظریات کا حامل شخص کوئی بھی ہو بلاشبہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کی بھی ضلالت کا سبب ہے، نفوسِ سلیمہ ایسی باتوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے، اگر کسی کو ایسی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں تو خود اس کے اندر زیغ ہے۔

صفحہ 4 از 5