دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری…

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری کا فتویٰ (سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ہندوستان)


صفحہ 3 از 5

حافظ ابنِ حجرؒ نے "الاصابہ" میں ایک خاص فصل اسی مقصد کے لیے قائم کی ہے اور اس کے تحت لکھا ہے کہ تمام اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ سارے صحابہ کرامؓ عادل ہیں، اس عقیدے کی مخالفت سوائے چند مبتدعین کے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔ مزید لکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کی تعظیم اگرچہ ان کی ملاقات حضور اکرمﷺ سے تھوڑی دیر ہی رہی ہو خلفائے راشدینؓ کے نزدیک ایک مقرر اور مانی ہوئی بات تھی۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں، جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔

امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عدالت کا تمام صحابہ کرامؓ میں عام ہونا ہی جمہور کا قول ہے اور یہی معتبر ہے۔

علامہ عراقیؒ نے: "شرح الفیہ" میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہ کرامؓ کا عادل ہونا ہی جمہور اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔

امام غزالیؒ نے "المستصفیٰ" میں اور امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں جمہور اہل حق اُمت کا اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

ملا علی قاریؒ نے "شرح فقہ اکبر" میں لکھا ہے کہ جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں، سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں پیش آنے والے اختلافات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔

3: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کرنے والے صحابہ کرامؓ کو (نعوذباللہ) فاسق قرار دینا معتزلہ کی رائے ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ نے "الباعث الحثیث" میں اور علامہ ابن الاثیر جزریؒ نے "جامع الاصول" میں معتزلہ کے قول کو دلائل کے ساتھ باطل اور مردود قرار دیا ہے۔

4: تمام صحابہ کرامؓ سے محبت رکھنا، ان کا ادب واحترام کرنا، ان کی تعظیم وتکریم اور ان کی اقتداء واجب و ضروری ہے، کسی بھی صحابی کو بُرا کہنا اور ان پر طعن و تشنیع کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بُرا بھلا کہنا حرام ہے، یہ سخت ترین محرمات میں سے ہے، خواہ صحابہ کرامؓ میں سے کوئی فتنے کی حالت سے دوچار ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، سب کا حکم ایک ہی ہے، اس لیے کہ ان اختلافات میں سب کا مبنیٰ اجتہاد اور تاویل تھا۔

قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ کسی بھی صحابی کو بُرا کہنا گناہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایسے شخص کی تعزیر کی جائے گی۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ کرامؓ کا صرف ذکرِ خیر ہی کریں گے، وہ ہمارے دینی امام اور مقتدا ہیں، ان کو بُرا کہنا حرام ہے اور ان کی تعظیم ہم پر واجب ہے۔

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یقیناً صحابہ کرامؓ کی جماعت بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے حکم میں ہو گی، پس جس طرح کسی نبی پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور ان کی بات واجب التسلیم ہوتی ہے، بوجہ دلائلِ قطعیہ و یقینیہ کے، اسی طرح صحابہ کرامؓ پر بھی تنقید کرنے کی نیت کرنا بددینی اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔

خطیب بغدادیؒ نے "الکفایہ" میں بسندِ نقل کیا ہے کہ امام ابوزرعہؒ نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ کسی صحابیؓ کی تنقید کرتا ہے تو جان لو کہ وہ بددین ہے۔

ابنِ عساکرؒ نے حضرت امام احمدؒ سے بسندِ نقل کیا ہے، جس کو علامہ ابنِ تیمیہؒ نے بھی اپنے رسالہ "حکمِ سبّ الصحابۃ" میں ذکر کیا ہے کہ جب کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دین مشکوک ہے۔

حضرت امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا حضرت عمرو بن العاصؓ کی تنقیس کرتا ہے، کیا اس کو رافضی کہا جائے گا؟ فرمایا: ان صحابہ کرامؓ کی تنقیس کی جرأت وہی کر سکتا ہے جو بد باطن ہو، کوئی بھی شخص کسی بھی صحابیِ رسول سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بد باطن ہونے کی علامت ہے۔

ابنِ عساکرؒ نے بسندِ نقل کیا ہے اور حافظ مزیؒ نے بھی "تہذیب الکمال" میں حضرت امام نسائیؒ کے ترجمے کے تحت لکھا ہے کہ حضرت امام نسائیؒ سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ اسلام کی مثال اُس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو، پس اسلام کا دروازہ صحابہ کرامؓ ہیں، جو شخص صحابہ کرامؓ کو تکلیف پہنچائے، گویا وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے، جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے تو گویا وہ گھر کے اندر داخل ہونا چاہتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔

حضرت امام وکیعؒ سے منقول ہے کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے، اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ کی مثال ہے، جو ان کو نشانہ بنائے گا، ہم ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی اس کو متہم سمجھیں گے۔

علامہ مرتضیٰ زبیدیؒ "شرح احیاء" میں لکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کرامؓ کا عدالت کے ذریعہ تزکیہ کرنا اور ان پر کسی طرح کا بھی طعن کرنے سے بچنا واجب ہے اور دیندار کے لیے زیبا ہے کہ صحابہ کرامؓ جس حال میں عہدِ نبویﷺ میں تھے، اُسی حال پر آخر تک ان کو باقی رکھنے والا اعتقاد کرے، پس اگر کوئی لغزش نقل کی جائے تو عاقل کو چاہیے کہ اس نقل پر غور کرے، اگر وہ کمزور ہو تو اس کو رد کر دے اور اگر ایسا نہ ہو اور روایت آحاد میں سے ہو تو بھی امرِ متواتر میں اور جس چیز کی شاہدِ نصوص ہوں وہ نقل کوئی قدح پیدا نہیں کر سکتی۔

حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن دیوبندیؒ ایک سوال کہ ایک شخص سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں الفاظ دغا باز، خائن، جھوٹا، خاطی، آلِ رسول کا دشمن، کہتا ہے، ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ایسا شخص گنہگار اور فاسق ہے، اس کو فوراً توبہ کرنی چاہیے، کسی صحابی کی شان میں ایسی گستاخی کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں، بہت سے بہت یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سے اجتہادی غلطی ہوئی، جس سے ان کی شانِ صحابیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

صفحہ 3 از 5