دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری…

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری کا فتویٰ (سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ہندوستان)


صفحہ 2 از 5

نوٹ: عالم موصوف کی مطبوعہ کتابوں، مثلاً: علمائے اہلِ سنت سے چند سوالات، لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں، اللہ تعالیٰ جل شانہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب اور تہذیب علوم الحدیث کے بعض ضروری صفحات اور تقریروں کے منتخب اقتباسات منسلک ہیں۔

المستفتی: عرفان نصر فاروقی ندوی۔ لکھنؤ (یو پی)(20.9.2020ء)

جواب: اس سلسلے میں پہلے چند بنیادی اور اصولی باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔

1: محدثین کے نزدیک صحابی کی صحیح و مقبول اور معتمد تعریف یہ ہے: مَن لَقِی النَّبِیﷺ مُؤْمِنًا بِهِ وَمَاتَ عَلَى الْإِسْلَامِ۔ یعنی جس نے حضورِ اکرمﷺ سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور اسلام کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔

محدثِ کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ لکھتے ہیں کہ حافظ ابنِ حجر صاحبؒ نے "الاصابہ فی تمييز الصحابہ" میں اس تعریف کے بارے میں لکھا ہے: "اصح ما وقفت عليه" یہ صحیح ترین تعریف ہے۔

اور فتح الباری میں اس کو جمہور محدثین کا قول قرار دیا ہے۔ صاحبِ "مواہب لدنيہ" اور اس کے شارح علامہ زرقانی نے بھی اسی تعریف کو راجح اور جمہور محدثین اور اصولین کا مذہب بتایا ہے۔ شیخ عوامہ نے "تدريب الراوی" کے حاشیہ میں علامہ عراقی کی "شرح الافیہ" کے حوالہ سے اسی تعریف کو راجح قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحبؒ نے بھی "ہدایۃ الشیعہ" میں صحابی کی یہی تعریف بیان کی ہے۔

اس تعریف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صحابی ہونے کے لیے صحبت کی کوئی مدت معین نہیں ہے، جس نے بحالتِ اسلام ایک نظر بھی حضور اکرمﷺ کو دیکھ لیا اور ایمان کی حالت ہی میں اس کا انتقال ہوا اس کو صحابی کہا جائے گا۔

حافظ ابو القاسم ہبۃاللہ طبریؒ نے "شرح اصول اعتقاد اہل سنت والجماعۃ" میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا واضح قول ذکر کیا ہے کہ صحبت کے لیے کوئی مدت متعین نہیں ہے، جس نے بھی حضور اکرمﷺ کی صحبت اختیار کی ہو خواہ ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن یا ایک ساعت یا آپﷺ کو ایک نظر دیکھ لیا ہو تو اُس کو صحابی کہا جائے گا۔ مذکورہ تعریف کے علاوہ صحابی کی دوسری تعریفات محدثین کے نزدیک مرجوع ہیں۔

2: اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان باہم درجاتِ فضائل میں بہت کچھ تفاوت ہے، لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایک عقیدہ سب کے بارے میں بلا استثناء اور بلا اختلافِ اجماعی ہے، وہ یہ ہے کہ "الصحابۃ کلہم عدول" یعنی صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں، اس سے جس کسی نے بھی اختلاف کیا ہے، وہ ہمیشہ سے مسترد ہوا ہے۔ صدیوں سے یہ عقیدہ بالتواتر مسلم ہے اور جزوِ ایمان ہے، جس کے بارے میں ازسرِ نو تحقیق کی نہ ضرورت ہے، نہ گنجائش ہے۔

امام خطیب بغدادیؒ نے "الکفایۃ فی علم الروایہ" میں مستقل باب قائم کیا ہے: باب ما جاء فی تعديل اللہ ورسولہ للصحابۃ، وانه لا يحتاج للسؤال عنه: اس کے تحت کئی قرآنی آیات اور احادیثِ رسولﷺ سے عدالتِ صحابہ کرامؓ کو ثابت کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" میں خطیب بغدادیؒ کی مذکورہ بحث ذکر کی ہے، صحیح ابن حبان میں بھی عدالتِ صحابہؓ کا مستقل عنوان ہے:

ذکر الخبر الدال على ان اصحاب رسول اللہﷺ كلهم ثقات عدول

مقدمہ صحیح ابن حبان میں مشہور حدیث: ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب: سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کو ثابت کیا ہے، اور شیخ عوامہ نے "خطوات منہجيۃ فی اثبات عدالۃ الصحابہ" کے صفحہ نمبر 41 میں حدیث کے مذکورہ جملہ کو متواتر ثابت کیا ہے۔ علامہ شاطبیؒ نے بھی "الموافقات" میں آیتِ قرآنی وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا کے تحت عدالتِ صحابہؓ کو تفصیل سے ثابت کیا ہے، محدثین اور فقہاء کی عبارات اس سلسلے میں صریح اور قاطع ہیں۔ الفقہ الاکبر میں حضرتِ امامِ اعظم امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر صحابیؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔

امام طحاویؒ نے "العقیدۃ الطحاویہ" میں جو اصولِ دین کی مستند کتاب ہے، اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی تفصیل ذکر کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کرتے ہیں، کسی کی محبت میں کمی نہیں کرتے ہیں، نہ کسی سے اظہارِ برأت کرتے ہیں، ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا ذکر کرتا ہے، تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہ کرامؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی محبت دین و ایمان اور احسان کی علامت ہے اور صحابہ کرامؓ سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔

علامہ ابن الہمامؒ نے "مسایرہ" میں لکھا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کی جائے اس طرح کہ ان سب کو عادل مانا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء کی جائے۔

علامہ محب اللہ نے "مسلم الثبوت" میں عدالتِ صحابہؓ کو اہل سنت کا مسلک قرار دیا ہے۔

ابنِ امیر حاج نے "التقرير والتحبير" میں علامہ تاج الدین سبکیؒ کے حوالے سے اس سلسلے میں نہایت نفیس بحث ذکر کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں قولِ فیصل یہ ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی عدالت کا بالاتر از یقین کرتے ہیں، صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا شخص گمراہی اور کھلے خسارے میں ہے۔

آلِ تیمیہ کی المسودہ فی اصول الفقہ میں ہے کہ اسلافِ اُمت اور جمہور خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ عادل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی تعدیل فرمائی ہے۔

حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اہل سنت کے اصولِ عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرامؓ کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔

حافظ ابن الصلاحؒ نے مقدمے میں اور قاضی ابو الولید باجیؒ نے "احکام الفصول" میں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی عدالت کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔

صفحہ 2 از 5