دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری…

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ مفتی محمد سہول عثمانی بھاگلپوری کا فتویٰ (سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ہندوستان)


صفحہ 1 از 5

صحابہ کرامؓ کی شان میں (معاذاللہ) باغی، مجرم، طاغی، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنے والے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم:

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین درج ذیل امر کے بارے میں کہ لکھنو میں ایک مشہور عالم ہیں، جو پہلے ایک اہم ادارہ سے منسلک تھے، انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ومحترم جماعت کو ایک عرصہ سے تنقیس کا نشانہ بنا رکھا ہے، ایک سال قبل جب ان کی تقریریں اور تحریریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں تو اہل حق علماء کی طرف سے ان کی تلبیسات وتدلیسات کے مدلل جوابات دے دیے گئے تھے، جس سے بحمداللہ عوام کی بے چینی و بے قراری ایک حد تک دُور ہو گئی تھی اور شبہات کا ازالہ ہو گیا تھا، پھر انہوں نے خود بھی بحث بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ مشاجرات جیسے نازک موضوع کو موصوف ہی نے چھیڑا تھا اور حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی عظمت و تقدس کو سخت ٹھیس پہنچائی تھی اور نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے بے جا جرح و تنقید کی تھی، اس اعلان کے بعد بھی وقتاً فوقتاً صحابہ کرامؓ کی تنقیس پر مشتمل تقریریں کرتے رہے اور بعض کتابیں بھی شائع کیں۔

ادھر ایک ماہ قبل انہوں نے پھر "مشاجراتِ صحابہؓ" کو شدت سے اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور اس بار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ومبارک گروہ کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنایا اور بعض جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی شان میں برملا رکیک اور جارحانہ تبصرے کیے۔ صحابہ کرامؓ کو عاصی، باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم تک کہہ دیا۔ (معاذاللہ)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابیِ رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے (نعوذباللہ) حدیثوں کا ایک ذخیرہ گول کر دیا تھا اور اس پر نہایت سخت لہجہ میں تبصرہ کیا کہ کسی کو حضورِ اکرمﷺ کی حدیثیں چھپانے کا حق نہیں ہے۔ اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کیے اور صحابی کی تعریف ومصداق میں جمہور کی رائے چھوڑ کر ایک الگ راہ اختیار کر لی، اور صحابی کی معروف تعریف کو اہل سنت کا غلو اور دین میں تحریف قرار دیا۔

نیز یہ عالم اُمت کے اجماعی موقف "الصحابۃ کلہم عدول" سے شدید اختلاف کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کو جرح وتعدیل سے ماورا قرار دیتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ منافق بھی صحابہ کرامؓ تھے اور صحابہ کرامؓ میں ہر قسم کے اچھے اور بُرے لوگ تھے (معاذاللہ)۔ اہل سنت والجماعت صحابہ کرامؓ کی عدالت پر جن آیات و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کو وہ غلط معانی پہنا کر عدالتِ صحابہ کرامؓ کے نظریہ کو بالکل غلط اور بے دلیل قرار دیتے ہیں۔

نیز مذکورہ بالا عالم نے ترتیبِ نزولی پر قرآن کو مرتب کر کے اپنے ترجمہ کے ساتھ شائع کیا اور اسے عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے کہ ماضی میں بعض مستشرقین اور عنایت اللہ مشرقی نے بھی ایسی کوششیں کی تھیں۔

پہلے کی طرح اس بار بھی موصوف نے ساری بے راہ روی کی باتیں کرنے کے بعد اچانک بحث کو بند کرنے کا اعلان اس طور پر کیا کہ اب حق واضح ہو چکا ہے اور حجت تمام ہو چکی ہے اس لیے میں امت میں اتحاد قائم کرنے کے لیے اس بحث کو بند کرتا ہوں، لیکن اپنی تقریروں سے نہ رجوع کا اعلان کیا اور نہ ہی اپنی مطبوعہ تحریروں کے بارے میں کوئی وضاحت جاری کی، اور نہ ہی اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ان تقریروں کو ڈیلیٹ کیا۔ سنجیدہ طبقہ کو اس بات سے سخت تشویش ہے کہ ان کی تقریریں اور تحریریں عوام میں پھیل چکی ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلسل وائرل ہو رہی ہیں جس سے واقعہ یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرامؓ کے سلسلے میں لوگ نادانستہ طور پر بدگمانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور اس پاکیزہ جماعت کے بارے میں اب تک امتِ مسلمہ میں جو عظمت و تقدس اور ان کی عدالت و ثقاہت کی فضا بنی ہوئی ہے، اس پر زد پڑ رہی ہے، نوجوان طبقہ کا ذہن و دماغ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مُحبین اور متعلقین کی ایک جماعت بھی تیار ہو گئی ہے جو مسلسل سبّ و شتمِ صحابہؓ میں مصروف ہے، اور موصوف اپنے افکار کے نہ صرف پُرزور داعی ہیں بلکہ اپنی تقریروں میں علماء کو کھلم کھلا چیلنج بھی کرتے ہیں اور اپنے مُحبین کے حلقے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نظریات قرآن و حدیث کے عین مطابق ہیں، جو لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے وہ منکرِ حدیث ہیں اور عنداللہ ماخوذ ہوں گے اور روزِ قیامت شفاعت سے محروم رہیں گے۔

اس لیے ہمیں ناگزیر محسوس ہوا کہ محض اُمتِ مسلمہ کی خیرخواہی کے پیشِ نظر آپ حضرات کی خدمت میں ان مطبوعہ تحریروں کے منتخب اقتباسات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ ارسال کر کے واضح حکمِ شرعی دریافت کریں۔ ہمیں اُمید ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مقام و مرتبہ اور مشاجراتِ صحابہؓ جیسے نازک موضوع کے سلسلے میں امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں مسئلہ نظریات کا جو بھی شرعی حکم ہو، بلا خوفِ لومۃ لائم: واضح کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ موصوف کے افکار و نظریات کے مفصل رد کی حاجت نہیں ہے، اہلِ علم اس سے واقف ہیں، قدیم و جدید کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، ہمیں امید ہے کہ مذکورہ بالا عالم کے بارے میں آپ درجِ ذیل سوالات کے جوابات تحریر فرما کر امتِ مسلمہ کی بروقت رہنمائی فرمائیں گے۔

الف: اس عالم کے مذکورہ عقائد و افکار گمراہی شمار ہوں گے یا نہیں؟ اگر وہ عالم گمراہ ہے تو اس کی گمراہی کس نوعیت کی ہے؟

ب:جو مدرسہ اس عالم کے انتظام و انصرام میں چلتا ہو، اس میں اپنے بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لیے بھیجنا درست ہے یا نہیں؟ خصوصاً اُس وقت جب کہ اُس مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ اُس عالم کے نظریہ سے بڑی حد تک واقف ہوں۔

ج: ایسے عالم کے ساتھ مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس کی تقریروں، مجلسوں اور دُروس میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟

د:ایسے افکار کے حامل شخص اور ان کے مؤیدین کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

صفحہ 1 از 5