صحابہ کرامؓ کی شان میں (معاذاللہ) باغی، مجرم، طاغی، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنے والے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین درج ذیل امر کے بارے میں کہ لکھنو میں ایک مشہور عالم ہیں، جو پہلے ایک اہم ادارہ سے منسلک تھے، انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ومحترم جماعت کو ایک عرصہ سے تنقیس کا نشانہ بنا رکھا ہے، ایک سال قبل جب ان کی تقریریں اور تحریریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں تو اہل حق علماء کی طرف سے ان کی تلبیسات وتدلیسات کے مدلل جوابات دے دیے گئے تھے، جس سے بحمداللہ عوام کی بے چینی و بے قراری ایک حد تک دُور ہو گئی تھی اور شبہات کا ازالہ ہو گیا تھا، پھر انہوں نے خود بھی بحث بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ مشاجرات جیسے نازک موضوع کو موصوف ہی نے چھیڑا تھا اور حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی عظمت و تقدس کو سخت ٹھیس پہنچائی تھی اور نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے بے جا جرح و تنقید کی تھی، اس اعلان کے بعد بھی وقتاً فوقتاً صحابہ کرامؓ کی تنقیس پر مشتمل تقریریں کرتے رہے اور بعض کتابیں بھی شائع کیں۔
ادھر ایک ماہ قبل انہوں نے پھر "مشاجراتِ صحابہؓ" کو شدت سے اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور اس بار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ومبارک گروہ کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنایا اور بعض جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی شان میں برملا رکیک اور جارحانہ تبصرے کیے۔ صحابہ کرامؓ کو عاصی، باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم تک کہہ دیا۔ (معاذاللہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابیِ رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے (نعوذباللہ) حدیثوں کا ایک ذخیرہ گول کر دیا تھا اور اس پر نہایت سخت لہجہ میں تبصرہ کیا کہ کسی کو حضورِ اکرمﷺ کی حدیثیں چھپانے کا حق نہیں ہے۔ اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کیے اور صحابی کی تعریف ومصداق میں جمہور کی رائے چھوڑ کر ایک الگ راہ اختیار کر لی، اور صحابی کی معروف تعریف کو اہل سنت کا غلو اور دین میں تحریف قرار دیا۔
نیز یہ عالم اُمت کے اجماعی موقف "الصحابۃ کلہم عدول" سے شدید اختلاف کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کو جرح وتعدیل سے ماورا قرار دیتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ منافق بھی صحابہ کرامؓ تھے اور صحابہ کرامؓ میں ہر قسم کے اچھے اور بُرے لوگ تھے (معاذاللہ)۔ اہل سنت والجماعت صحابہ کرامؓ کی عدالت پر جن آیات و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کو وہ غلط معانی پہنا کر عدالتِ صحابہ کرامؓ کے نظریہ کو بالکل غلط اور بے دلیل قرار دیتے ہیں۔
نیز مذکورہ بالا عالم نے ترتیبِ نزولی پر قرآن کو مرتب کر کے اپنے ترجمہ کے ساتھ شائع کیا اور اسے عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے کہ ماضی میں بعض مستشرقین اور عنایت اللہ مشرقی نے بھی ایسی کوششیں کی تھیں۔
پہلے کی طرح اس بار بھی موصوف نے ساری بے راہ روی کی باتیں کرنے کے بعد اچانک بحث کو بند کرنے کا اعلان اس طور پر کیا کہ اب حق واضح ہو چکا ہے اور حجت تمام ہو چکی ہے اس لیے میں امت میں اتحاد قائم کرنے کے لیے اس بحث کو بند کرتا ہوں، لیکن اپنی تقریروں سے نہ رجوع کا اعلان کیا اور نہ ہی اپنی مطبوعہ تحریروں کے بارے میں کوئی وضاحت جاری کی، اور نہ ہی اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ان تقریروں کو ڈیلیٹ کیا۔ سنجیدہ طبقہ کو اس بات سے سخت تشویش ہے کہ ان کی تقریریں اور تحریریں عوام میں پھیل چکی ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلسل وائرل ہو رہی ہیں جس سے واقعہ یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرامؓ کے سلسلے میں لوگ نادانستہ طور پر بدگمانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور اس پاکیزہ جماعت کے بارے میں اب تک امتِ مسلمہ میں جو عظمت و تقدس اور ان کی عدالت و ثقاہت کی فضا بنی ہوئی ہے، اس پر زد پڑ رہی ہے، نوجوان طبقہ کا ذہن و دماغ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مُحبین اور متعلقین کی ایک جماعت بھی تیار ہو گئی ہے جو مسلسل سبّ و شتمِ صحابہؓ میں مصروف ہے، اور موصوف اپنے افکار کے نہ صرف پُرزور داعی ہیں بلکہ اپنی تقریروں میں علماء کو کھلم کھلا چیلنج بھی کرتے ہیں اور اپنے مُحبین کے حلقے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نظریات قرآن و حدیث کے عین مطابق ہیں، جو لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے وہ منکرِ حدیث ہیں اور عنداللہ ماخوذ ہوں گے اور روزِ قیامت شفاعت سے محروم رہیں گے۔
اس لیے ہمیں ناگزیر محسوس ہوا کہ محض اُمتِ مسلمہ کی خیرخواہی کے پیشِ نظر آپ حضرات کی خدمت میں ان مطبوعہ تحریروں کے منتخب اقتباسات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ ارسال کر کے واضح حکمِ شرعی دریافت کریں۔ ہمیں اُمید ہے کہ صحابہ کرامؓ کے مقام و مرتبہ اور مشاجراتِ صحابہؓ جیسے نازک موضوع کے سلسلے میں امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں مسئلہ نظریات کا جو بھی شرعی حکم ہو، بلا خوفِ لومۃ لائم: واضح کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ موصوف کے افکار و نظریات کے مفصل رد کی حاجت نہیں ہے، اہلِ علم اس سے واقف ہیں، قدیم و جدید کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، ہمیں امید ہے کہ مذکورہ بالا عالم کے بارے میں آپ درجِ ذیل سوالات کے جوابات تحریر فرما کر امتِ مسلمہ کی بروقت رہنمائی فرمائیں گے۔
الف: اس عالم کے مذکورہ عقائد و افکار گمراہی شمار ہوں گے یا نہیں؟ اگر وہ عالم گمراہ ہے تو اس کی گمراہی کس نوعیت کی ہے؟
ب:جو مدرسہ اس عالم کے انتظام و انصرام میں چلتا ہو، اس میں اپنے بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لیے بھیجنا درست ہے یا نہیں؟ خصوصاً اُس وقت جب کہ اُس مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ اُس عالم کے نظریہ سے بڑی حد تک واقف ہوں۔
ج: ایسے عالم کے ساتھ مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس کی تقریروں، مجلسوں اور دُروس میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟
د:ایسے افکار کے حامل شخص اور ان کے مؤیدین کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
نوٹ: عالم موصوف کی مطبوعہ کتابوں، مثلاً: علمائے اہلِ سنت سے چند سوالات، لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں، اللہ تعالیٰ جل شانہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب اور تہذیب علوم الحدیث کے بعض ضروری صفحات اور تقریروں کے منتخب اقتباسات منسلک ہیں۔
المستفتی: عرفان نصر فاروقی ندوی۔ لکھنؤ (یو پی)(20.9.2020ء)
جواب: اس سلسلے میں پہلے چند بنیادی اور اصولی باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔
1: محدثین کے نزدیک صحابی کی صحیح و مقبول اور معتمد تعریف یہ ہے: مَن لَقِی النَّبِیﷺ مُؤْمِنًا بِهِ وَمَاتَ عَلَى الْإِسْلَامِ۔ یعنی جس نے حضورِ اکرمﷺ سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور اسلام کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔
محدثِ کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ لکھتے ہیں کہ حافظ ابنِ حجر صاحبؒ نے "الاصابہ فی تمييز الصحابہ" میں اس تعریف کے بارے میں لکھا ہے: "اصح ما وقفت عليه" یہ صحیح ترین تعریف ہے۔
اور فتح الباری میں اس کو جمہور محدثین کا قول قرار دیا ہے۔ صاحبِ "مواہب لدنيہ" اور اس کے شارح علامہ زرقانی نے بھی اسی تعریف کو راجح اور جمہور محدثین اور اصولین کا مذہب بتایا ہے۔ شیخ عوامہ نے "تدريب الراوی" کے حاشیہ میں علامہ عراقی کی "شرح الافیہ" کے حوالہ سے اسی تعریف کو راجح قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحبؒ نے بھی "ہدایۃ الشیعہ" میں صحابی کی یہی تعریف بیان کی ہے۔
اس تعریف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صحابی ہونے کے لیے صحبت کی کوئی مدت معین نہیں ہے، جس نے بحالتِ اسلام ایک نظر بھی حضور اکرمﷺ کو دیکھ لیا اور ایمان کی حالت ہی میں اس کا انتقال ہوا اس کو صحابی کہا جائے گا۔
حافظ ابو القاسم ہبۃاللہ طبریؒ نے "شرح اصول اعتقاد اہل سنت والجماعۃ" میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا واضح قول ذکر کیا ہے کہ صحبت کے لیے کوئی مدت متعین نہیں ہے، جس نے بھی حضور اکرمﷺ کی صحبت اختیار کی ہو خواہ ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن یا ایک ساعت یا آپﷺ کو ایک نظر دیکھ لیا ہو تو اُس کو صحابی کہا جائے گا۔ مذکورہ تعریف کے علاوہ صحابی کی دوسری تعریفات محدثین کے نزدیک مرجوع ہیں۔
2: اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان باہم درجاتِ فضائل میں بہت کچھ تفاوت ہے، لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایک عقیدہ سب کے بارے میں بلا استثناء اور بلا اختلافِ اجماعی ہے، وہ یہ ہے کہ "الصحابۃ کلہم عدول" یعنی صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں، اس سے جس کسی نے بھی اختلاف کیا ہے، وہ ہمیشہ سے مسترد ہوا ہے۔ صدیوں سے یہ عقیدہ بالتواتر مسلم ہے اور جزوِ ایمان ہے، جس کے بارے میں ازسرِ نو تحقیق کی نہ ضرورت ہے، نہ گنجائش ہے۔
امام خطیب بغدادیؒ نے "الکفایۃ فی علم الروایہ" میں مستقل باب قائم کیا ہے: باب ما جاء فی تعديل اللہ ورسولہ للصحابۃ، وانه لا يحتاج للسؤال عنه: اس کے تحت کئی قرآنی آیات اور احادیثِ رسولﷺ سے عدالتِ صحابہ کرامؓ کو ثابت کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" میں خطیب بغدادیؒ کی مذکورہ بحث ذکر کی ہے، صحیح ابن حبان میں بھی عدالتِ صحابہؓ کا مستقل عنوان ہے:
ذکر الخبر الدال على ان اصحاب رسول اللہﷺ كلهم ثقات عدول
مقدمہ صحیح ابن حبان میں مشہور حدیث: ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب: سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کو ثابت کیا ہے، اور شیخ عوامہ نے "خطوات منہجيۃ فی اثبات عدالۃ الصحابہ" کے صفحہ نمبر 41 میں حدیث کے مذکورہ جملہ کو متواتر ثابت کیا ہے۔ علامہ شاطبیؒ نے بھی "الموافقات" میں آیتِ قرآنی وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا کے تحت عدالتِ صحابہؓ کو تفصیل سے ثابت کیا ہے، محدثین اور فقہاء کی عبارات اس سلسلے میں صریح اور قاطع ہیں۔ الفقہ الاکبر میں حضرتِ امامِ اعظم امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر صحابیؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔
امام طحاویؒ نے "العقیدۃ الطحاویہ" میں جو اصولِ دین کی مستند کتاب ہے، اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی تفصیل ذکر کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کرتے ہیں، کسی کی محبت میں کمی نہیں کرتے ہیں، نہ کسی سے اظہارِ برأت کرتے ہیں، ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا ذکر کرتا ہے، تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہ کرامؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی محبت دین و ایمان اور احسان کی علامت ہے اور صحابہ کرامؓ سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔
علامہ ابن الہمامؒ نے "مسایرہ" میں لکھا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کی جائے اس طرح کہ ان سب کو عادل مانا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء کی جائے۔
علامہ محب اللہ نے "مسلم الثبوت" میں عدالتِ صحابہؓ کو اہل سنت کا مسلک قرار دیا ہے۔
ابنِ امیر حاج نے "التقرير والتحبير" میں علامہ تاج الدین سبکیؒ کے حوالے سے اس سلسلے میں نہایت نفیس بحث ذکر کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں قولِ فیصل یہ ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی عدالت کا بالاتر از یقین کرتے ہیں، صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا شخص گمراہی اور کھلے خسارے میں ہے۔
آلِ تیمیہ کی المسودہ فی اصول الفقہ میں ہے کہ اسلافِ اُمت اور جمہور خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ عادل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی تعدیل فرمائی ہے۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اہل سنت کے اصولِ عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرامؓ کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔
حافظ ابن الصلاحؒ نے مقدمے میں اور قاضی ابو الولید باجیؒ نے "احکام الفصول" میں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کی عدالت کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔
حافظ ابنِ حجرؒ نے "الاصابہ" میں ایک خاص فصل اسی مقصد کے لیے قائم کی ہے اور اس کے تحت لکھا ہے کہ تمام اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ سارے صحابہ کرامؓ عادل ہیں، اس عقیدے کی مخالفت سوائے چند مبتدعین کے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔ مزید لکھتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کی تعظیم اگرچہ ان کی ملاقات حضور اکرمﷺ سے تھوڑی دیر ہی رہی ہو خلفائے راشدینؓ کے نزدیک ایک مقرر اور مانی ہوئی بات تھی۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں، جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔
امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عدالت کا تمام صحابہ کرامؓ میں عام ہونا ہی جمہور کا قول ہے اور یہی معتبر ہے۔
علامہ عراقیؒ نے: "شرح الفیہ" میں اسی کو ترجیح دی ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہ کرامؓ کا عادل ہونا ہی جمہور اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔
امام غزالیؒ نے "المستصفیٰ" میں اور امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں جمہور اہل حق اُمت کا اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
ملا علی قاریؒ نے "شرح فقہ اکبر" میں لکھا ہے کہ جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں، سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں پیش آنے والے اختلافات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔
3: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کرنے والے صحابہ کرامؓ کو (نعوذباللہ) فاسق قرار دینا معتزلہ کی رائے ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ نے "الباعث الحثیث" میں اور علامہ ابن الاثیر جزریؒ نے "جامع الاصول" میں معتزلہ کے قول کو دلائل کے ساتھ باطل اور مردود قرار دیا ہے۔
4: تمام صحابہ کرامؓ سے محبت رکھنا، ان کا ادب واحترام کرنا، ان کی تعظیم وتکریم اور ان کی اقتداء واجب و ضروری ہے، کسی بھی صحابی کو بُرا کہنا اور ان پر طعن و تشنیع کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بُرا بھلا کہنا حرام ہے، یہ سخت ترین محرمات میں سے ہے، خواہ صحابہ کرامؓ میں سے کوئی فتنے کی حالت سے دوچار ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، سب کا حکم ایک ہی ہے، اس لیے کہ ان اختلافات میں سب کا مبنیٰ اجتہاد اور تاویل تھا۔
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ کسی بھی صحابی کو بُرا کہنا گناہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایسے شخص کی تعزیر کی جائے گی۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ کرامؓ کا صرف ذکرِ خیر ہی کریں گے، وہ ہمارے دینی امام اور مقتدا ہیں، ان کو بُرا کہنا حرام ہے اور ان کی تعظیم ہم پر واجب ہے۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یقیناً صحابہ کرامؓ کی جماعت بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے حکم میں ہو گی، پس جس طرح کسی نبی پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور ان کی بات واجب التسلیم ہوتی ہے، بوجہ دلائلِ قطعیہ و یقینیہ کے، اسی طرح صحابہ کرامؓ پر بھی تنقید کرنے کی نیت کرنا بددینی اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔
خطیب بغدادیؒ نے "الکفایہ" میں بسندِ نقل کیا ہے کہ امام ابوزرعہؒ نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ کسی صحابیؓ کی تنقید کرتا ہے تو جان لو کہ وہ بددین ہے۔
ابنِ عساکرؒ نے حضرت امام احمدؒ سے بسندِ نقل کیا ہے، جس کو علامہ ابنِ تیمیہؒ نے بھی اپنے رسالہ "حکمِ سبّ الصحابۃ" میں ذکر کیا ہے کہ جب کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دین مشکوک ہے۔
حضرت امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یا حضرت عمرو بن العاصؓ کی تنقیس کرتا ہے، کیا اس کو رافضی کہا جائے گا؟ فرمایا: ان صحابہ کرامؓ کی تنقیس کی جرأت وہی کر سکتا ہے جو بد باطن ہو، کوئی بھی شخص کسی بھی صحابیِ رسول سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بد باطن ہونے کی علامت ہے۔
ابنِ عساکرؒ نے بسندِ نقل کیا ہے اور حافظ مزیؒ نے بھی "تہذیب الکمال" میں حضرت امام نسائیؒ کے ترجمے کے تحت لکھا ہے کہ حضرت امام نسائیؒ سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ اسلام کی مثال اُس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو، پس اسلام کا دروازہ صحابہ کرامؓ ہیں، جو شخص صحابہ کرامؓ کو تکلیف پہنچائے، گویا وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے، جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے تو گویا وہ گھر کے اندر داخل ہونا چاہتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔
حضرت امام وکیعؒ سے منقول ہے کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے، اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ کی مثال ہے، جو ان کو نشانہ بنائے گا، ہم ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی اس کو متہم سمجھیں گے۔
علامہ مرتضیٰ زبیدیؒ "شرح احیاء" میں لکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کرامؓ کا عدالت کے ذریعہ تزکیہ کرنا اور ان پر کسی طرح کا بھی طعن کرنے سے بچنا واجب ہے اور دیندار کے لیے زیبا ہے کہ صحابہ کرامؓ جس حال میں عہدِ نبویﷺ میں تھے، اُسی حال پر آخر تک ان کو باقی رکھنے والا اعتقاد کرے، پس اگر کوئی لغزش نقل کی جائے تو عاقل کو چاہیے کہ اس نقل پر غور کرے، اگر وہ کمزور ہو تو اس کو رد کر دے اور اگر ایسا نہ ہو اور روایت آحاد میں سے ہو تو بھی امرِ متواتر میں اور جس چیز کی شاہدِ نصوص ہوں وہ نقل کوئی قدح پیدا نہیں کر سکتی۔
حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن دیوبندیؒ ایک سوال کہ ایک شخص سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں الفاظ دغا باز، خائن، جھوٹا، خاطی، آلِ رسول کا دشمن، کہتا ہے، ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ایسا شخص گنہگار اور فاسق ہے، اس کو فوراً توبہ کرنی چاہیے، کسی صحابی کی شان میں ایسی گستاخی کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں، بہت سے بہت یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سے اجتہادی غلطی ہوئی، جس سے ان کی شانِ صحابیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
نیز ایک دوسرے سوال کہ جس کتاب میں سیدنا امیر معاویہؓ کی عظمت و عزت کا لحاظ نہ کیا گیا ہو، بلکہ ایک قسم کی توہین ٹپکتی ہو اُس کتاب کا پڑھنا اور جس کا عقیدہ اُس کے موافق ہو اُس کا امام بنانا کیسا ہے؟ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو کہ صحابی، کاتبِ وحی تھے اور حضورِ اکرمﷺ نے ان کے لیے دعاء فرمائی جیسا کہ کتبِ احادیث سے ظاہر ہے، ان کی شان میں ایسے الفاظ لکھنا نہایت سوءِ ادبی اور لکھنے والے کے فسادِ عقیدہ کی دلیل ہے۔ پس ایسی کتاب کا دیکھنا اور اس پر عقیدہ رکھنا درست نہیں اور جس کا عقیدہ ایسا ہو وہ لائقِ امام بنانے کے نہیں ہے، اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور اس کو معزول کر دیں۔
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ لکھتے ہیں کہ جن مقدس ہستیوں کو رسولِ اکرمﷺ نے امین قرار دیا، آج ان کے متعلق یہ بحث کرنا کہ ان سے گناہ صادر ہوئے تھے اور انہوں نے فلاں فلاں گناہ کیے ہیں، درحقیقت ان کی امانت و ذمہ داری کو مجروح کر کے ان سے بے اعتمادی پیدا کرنا ہے جس کی زد حضورِ اکرمﷺ پر جا کر پڑتی ہے کہ (معاذاللہ) آپﷺ نے نااہلوں پر اعتماد فرمایا اور اتنی بڑی امانت کی ذمہ داری ان کے سر ڈالی جس کے وہ اہل نہیں تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارا دین مندوح و ناقابلِ اعتماد ہو جائے گا۔ نیز فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی نہ کی جائے کہ ایمان کے لیے خطرہ ہے۔
5: مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان جو کچھ واقعات پیش آئے، وہ اجتہاد پر مبنی تھے، اس کی بنیاد پر کسی کی تفسیق و تنقیس کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرنا چاہیے اور ان کی شان میں کوئی ایسی بات ہرگز نہیں کہنی چاہیے جس سے ان کی تنقیس ہوتی ہو۔
خطا ہو جائے، بلکہ یہ ثابت ہے کہ اس کو ایک اجر ملے گا اور درست اجتہاد کرنے والا دوہرے اجر کا مستحق ہوگا۔ اسی طرح کی بات علامہ عینیؒ نے بھی لکھی ہے۔
علامہ ابن الہمامؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ، سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔ امام غزالیؒ نے بھی "احیاء علوم الدین" میں اسی طرح کی بات لکھی ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہل سنت سکوت اختیار کرتے ہیں۔
امام قرطبیؒ نے اس سلسلے میں اہل سنت کے مسلک کی بہترین رہنمائی کی ہے، لکھتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے، اس لیے کہ ان سب حضرات نے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ تعالیٰ جل شانہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے سے کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت و عظمت کی چیز ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔
ملا علی قاریؒ نے "شرح فقہ اکبر" میں لکھا ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں جو باتیں باطل اور جھوٹی ہیں ان کی طرف کوئی التفات نہیں کیا جائے گا اور جو باتیں صحیح و ثابت ہیں ان کے بارے میں اچھی تاویل کی جائے گی۔
6: پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ معرفتِ صحابہؓ تو علم حدیث کا ایک اہم جزء ہے جیسا کہ "مقدمہ اصابہ" میں حافظ ابن حجرؒ نے اور "مقدمہ استیعاب" میں حافظ ابن عبدالبر نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ اور صحابہ کرامؓ کے باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلہ کو علمائے امت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتبِ عقائدِ اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے، ایسا مسئلہ جو عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہو اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہو، اس کے فیصلے کے لیے بھی ظاہر ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسے شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصولِ تنقید پر رکھنا واجب ہے، اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے، وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں، اس کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔
سلف و خلف اور متقدمین و متأخرین اصولین، فقہاء اور اکابر کی مذکورہ واضح تصریحات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرامؓ کی عدالت و ثقاہت اور ان کا جرح و تنقید سے بالاتر ہونا قرآنی آیات اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ نصوص اپنی دلالت میں صریح و مستحکم ہیں، یہ اہل سنت والجماعت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے، جس پر جمہور امت کا اجماع ہے اور ان کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے، ان کو اجتہادی قرار دیتے ہوئے سکوت اختیار کرنا اور کسی بھی صحابی کی شان میں منفی تبصرہ کرنے سے احتراز کرنا بھی اہل سنت کا مذہب ہے۔
مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
الف: سوال نامے کے ساتھ تحریر و تقریر کے جو اقتباسات منسلک کیے گئے ہیں، ان کو پڑھنے سے واضح ہے کہ مذکورہ شخص کے عقائد و نظریات جمہور اہل سنت والجماعت کے قطعاً خلاف ہیں اور موجبِ فسق ہیں اور منسلک صفحات میں جن نصوص سے استدلال کیا گیا ہے، وہ قطعاً درست نہیں ہے، یہ محض کم علمی اور کج فہمی سے عبارت ہے۔
برملا صحابہ کرامؓ کی شان میں باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنا اور ان کی تنقیس و تفسیق براہِ راست ایمان کے لیے نہایت خطرناک ہے، ایسے نظریات کا حامل شخص کوئی بھی ہو بلاشبہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کی بھی ضلالت کا سبب ہے، نفوسِ سلیمہ ایسی باتوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے، اگر کسی کو ایسی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں تو خود اس کے اندر زیغ ہے۔
ب: ایسے شخص کے انتظام و انصرام میں چلنے والے مدرسہ میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لیے بھیجنا فسادِ عقیدہ کے اندیشہ کی وجہ سے قطعاً جائز نہیں ہے۔
ج: مسلمانوں کے لیے ایسے شخص کو مقتدا ماننا، اس کی تقریر سننا، تحریر پڑھنا اور اس کے دُروس میں شریک ہونا نہ صرف یہ کہ ناجائز ہے بلکہ ایمان کے لیے سخت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
د: ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔