سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ پلاٹ نمبر 125 ممتاز آباد ملکیت سرکار ہے، اس کے ارد گرد سنی حضرات کی آبادی ہے۔ شیعہ نے زبردستی بلا منظوریِ سرکاری، بالآخر ایک امام بارگاہ وہاں پر تعمیر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا ایک کمرہ بن چکا ہے۔ گورنمنٹ نے شیعہ کے خلاف پولیس میں مداخلتِ بے جا کا نوٹس دے دیا ہے، پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ مزید تعمیر سٹی مجسٹریٹ نے روک دی ہے۔ اب شیعہ سے چند برجیاں خرید کر کمرہ کے اوپر رکھ دی ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مسجد بنائی ہے۔ ہر دو حضرات کی کتابوں کے حوالہ سے جواب مرحمت فرماویں کہ ایسا کمرہ کا گرانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ وقف کے صحیح ہونے کے منجملہ شرائط میں سے ایک اس کا مملوک ہونا ہے۔ جو شخص کسی زمین کا اگر مالک نہ ہو تو وہ شخص اس زمین کو مالک کی رضامندی کے بغیر وقف نہیں کر سکتا ہے، اور نہ اس کو مسجد بنا سکتا ہے۔ بالفرض اگر اس کو مسجد بنا بھی لے اور مالک رضامند نہ ہو تو اس کو توڑ سکتا ہے، اور اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سرکار کی مملوک زمین پر جو لوگ امام بارگاہ یا مسجد بنا چکے ہیں اور سرکار نے اس کی اجازت نہیں دی ہے تو یہ شرعاً مسجد نہ کہلائے گی بلکہ سرکار جو مالک ہے اگر چاہے تو اس کو گرا کر توڑ سکتی ہے۔
(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 10 صفحہ 239)