اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 6
محدثین نے جو یہ کہا ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں تو وہ ظاہری سیرت کے اعتبار سے ہے جیسے ہم بیان کر چکے ہیں اور یہ ظاہر کی قید اس لیے ہے، تاکہ جس نے بغیر تاویل کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ نکل جائے، جیسے سیدنا ولید بن عقبہؓ اور محدثین نے کہا ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم علی الاطلاق عادل ہیں، اس لیے کہ تقریباً سبھی ایسے تھے اور بہت معمولی نادر اس سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔ پس ایسا فاسق جس نے اس زمانہ میں اپنے عمل کی کوئی تاویل ظاہر نہیں کی وہ ایسا ہی ہے، جیسے سفید رنگ کے بیل میں ایک آدھا بال کالا بھی ہو۔‘‘
مگر ہم کہتے ہیں کہ ان کا یہ قول مردود ہے، کیونکہ خلافِ جمہور خلاف اجماع اہلِ حق ہے کسی نے بھی استثناء کو جائز قرار نہیں دیا اور حضرت ولیدؓ یا حضرت بسر بن ابی ارطاۃؓ کو جن تاریخی روایات کی بناء پر غیر عادل کہا جاتا ہے وہ روایات مخدوش ہیں، بلکہ اکثر مواد دشمنانِ اسلام و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روافض کی من گھڑت ہے نیز وہ نصوصِ قطعیہ قرآنیہ اور احادیثِ صحیحہ جو جمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر روشن دلیلیں ہیں کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ اگر کوئی روایت قابلِ اعتماد بھی ہو تب بھی وہ مؤول اور مصروف عن الظاہر ہو گی اور اس کا کوئی جائز مصداق اور محمل ہو گا کیونکہ اس کے ظاہری و ظنی مفہوم کی بدولت قرآن و حدیث اور اجماع کے قطعی الثبوت و قطعی الدلالت مفہوم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
علاوہ ازیں ہمارے معاصر محققین بھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت ولیدؓ بن عقبہ پر شراب نوشی کا الزام کوفہ کے شریروں نے انتقامی طور پر لگایا تھا اور حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے انھوں نے گواہی دی تب ان پر حد جاری ہوئی بہرحال اصل الزام غلط ہے۔ (دیکھیے عادلانہ دفاع: حصہ، اول از مولانا نورالحسن شاہ صاحب بخاری)
ایسے ہی سیدنا بسر بن ابی ارطاۃؓ کے متعلق ظلم و ستم، بچوں کو قتل کرنے مسلمانوں کو اسیر بنانے کی روایات وضعی داستان سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جن کے موجد شیعہ ہیں۔
ایسی غیر معتبر روایات پر اعتماد کر کے ہم کیسے ایک صحابیؓ سے بدظن ہوں یا ان سے عدالت ساقط کر دیں، جب کہ سب امت کا فیصلہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت کا ہے۔
مؤرخین کی ایسی ہی رطب و یابس روایات کے متعلق حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلویؒ المتوفی (1239ھ) فرماتے ہیں:
لان المؤرخینَ ینقلون ما خَبُثَ وطابَ ولا یُمَیِّزُوْن بین الصحیح والموضوع والضعیف وأکثرھم حَاطِبُ لیلٍ وَلَا یَدْرِی ما یَجْمَعُ فالاعتماد علی ذلک فی مثلِ ھذا المقامِ الخَطْرِ والطریقِ الوَعْرِ وَالمھمۃِ القَفَرِ التی تَضِلُّ فیہ القَطَا وتَقْصُرُ دونہ الخُطَا مما لا یلیق بشأن عاقلٍ فضلا عن فاضل 
(مختصر التحفہ الاثنی عشریہ: صفحہ، 282)
ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہؓ پر سبِّ سیدنا علیؓ کے الزام کی طرف توجہ ہی نہ کی جائے)کیونکہ مؤرخین پاک ناپاک سب نقل کرتے ہیں۔ صحیح، من گھڑت اور کمزور روایات میں فرق نہیں کرتے ان کی اکثریت رات کو لکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح ہے جو نہیں جانتا کہ (خشک و تر) کیا جمع کر رہا ہے۔ ایسے پُرخطر مقام، سنگین راستے اور بیاباں جنگل میں جس میں پرندے بھی گم ہو جاتے ہیں اور قدم وہاں پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسی روایات پر اعتماد عقل مند کی شان نہیں چہ جائے کہ اہلِ علم و فاضل ایسا کرے۔  
(واللہ الہادی)

صفحہ 6 از 6