اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 6
ترجمہ: علامہ سبکیؒ المتوفی (771ھ) کہتے ہیں کہ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت کے قطعیت کے ساتھ قائل ہیں اور بکواسیوں کی بکواس اور باطل پرستوں کی گمراہی کی طرف ذرہ توجہ نہیں کرتے۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہمارے جیسے ایک آدمی کے تزکیہ کرنے سے راوی عادل سمجھا جاتا ہے پس وہ لوگ کیسے عادل نہ ہوں جن کا تزکیہ اس علام الغیوب نے کئی آیات میں کیا ہے جس کے علم سے ذرہ برابر کوئی چیز زمین یا آسمان میں مخفی نہیں۔
ملا علی قاریؒ المتوفی 1014ھ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
ولذلک ذھب جمھور العلماء إلی أن الصحابۃ کلھم عدول قبل فتنۃ عثمان و علی وکذا بعدھا ولقولہ علیہ السلام أصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم
ترجمہ: اسی لیے جمہور علماء کا یہی مذہب ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں حضرت علی و حضرت عثمان (رضی اللہ عنہما) کے فتنہ سے پہلے والے بھی اور اسی طرح بعد والے بھی اور نیز اس لیے بھی کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے میرے ساتھی ستاروں کی مثل ہیں جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔
علامہ ابنِ کمال الدینؒ المتوفی 806ھ اور کمال الدین بن شریف المتوفی 806ھ المسامرہ شرح مسایرہ صفحہ، 313 میں لکھتے ہیں:
واعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم وجوبا باثبات العدالۃ منھم والکف عن الطعن علیھم اثنی اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ الیھم۔
ترجمہ: تمام اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یقینی طور پر تزکیہ شدہ اور عادل ہیں ان کی بدگوئی سے رکنا واجب ہے۔ ان کی تعریف کرنی ضروری، جیسے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔
علامہ ابن حجر ہیثمیؒ المتوفی 974ھ لکھتے ہیں:
معلوم ہونا چاہیے کہ جس مسئلہ پر اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ ہر مسلم پر واجب ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ (اور احترام) یوں کرے کہ ان کے لیے عدالت کا اعتقاد رکھے۔ ان کی بدگوئی سے رکے۔ ان کی مدح و ثناء کرتا رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بہت سی آیات میں ان کی تعریف کی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے: "(اے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) تم سب امت سے بہتر ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے بنائی گئی ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں پر ان کی فضیلت ثابت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان کی فضیلت پر اس شہادت کے برابر کوئی شہادت نہیں ہو سکتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اور ان سے صادر ہونے والے جمیعِ اعمالِ حسنہ کو خوب جانتے ہیں، بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں سب امتوں سے افضل ہونے کی گواہی دی تو ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ اس پر اعتقاد رکھے اور اس پر ایمان لائے ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس خبر دینے میں تکذیب کرے گا اور بلاشبہ جو شخص بھی کسی ایسی چیز کی حقیقت میں جس کی خبر اللہ اور اس کے رسولﷺ نے دی ہے شک کرے تو وہ تمام مسلمانوں کے نزدیک کافر ٹھہرے گا۔ 
(الصواعق المحرقۃ لاہل الزندقۃ)
قارئین کرام! خوف ہے کہ ایک ہی قسم کے اقوال آپ پڑھتے پڑھتے کہیں اکتا نہ جائیں بقول شاعر۔
اند کے پیش تو گفتم غم دل ترسیدم   
کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
اس لیے ہر صنف کے علماء کے اقوال میں سے صرف دو چار کے لکھنے پر اکتفا کیا ہے اور عقل مند آدمی کے لیے یہی کافی ہیں اور ہٹ دھرم اور معاند کے لیے دفتر کے دفتر بھی بے کار ہیں ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اور ان کی عزت و تکریم کے ضروری ہونے پر اسی اکثریت سے علماء امت کی تصریحات موجود ہیں کہ ان کو جمع کرنے سے ایک ضخیم جلد تیار تو ہو جائے، مگر وہ ختم نہ ہوں۔ اس مختصر سے مضمون میں اتنی گنجائش ہی کہاں؟ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و محامد پر مشتمل مواد کا عشر عشیر بھی سمیٹ سکے۔
دامانِ نگاہ تنگ گلِ حسن تو بسیار                      
گل چین بہار تو زد امن گلہ دارد
الغرض ہر مکتبِ فکر کے علماء امت نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دربار میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مفسرین و محدثین نے اس لیے کہ ذخیرۀ حدیث و تفسیر کے راویان اول اور انھیں حدیث و تفسیر سے ربط آشنائی دینے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔ فقہاء اور علماء اصول نے اس لیے کہا انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات اور اقوالِ طیبہ سے خوشہ چینی کر کے اجتہاد و استنباط کا ملکہ پایا اور ان کے متعلق قوانین مدون کیے۔
متکلمین اور علماء عقائد نے اس لیے بحث کی تاکہ قرآن و سنت کے ان پاسبانوں کو دشمن کے حملہ سے محفوظ رکھا جائے اور اہلِ حق کا اہلِ باطل سے امتیاز بھی ہو جائے۔ علماء رجال اور مؤرخین نے اس لیے مدح سرائی کی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سوانح نگاری اور ان کے پاکیزہ حالات نے ان کے فن اور خدمات کو جلا بخشی اور دنیا میں ان کا نام روشن کرایا بقول حضرت حسانؓ۔
ما إن مدحتُ محمدًا بمقالتی         
لکن مدحتُ مقالتی بمحمد
ترجمہ: میں نے اپنی نظم میں حضورﷺ کی تعریف نہیں کی ہاں آپﷺ کے ذکرِ خیر سے اپنی نظم کی تعریف کر دی ہے۔
رضی اللہ تعالیٰ و رسولہ عنہم اجمعین۔
تمام علماء اصولِ حدیث میں سے صرف صاحبِ تنقیح الازہار جو شیعی زیدی مسلک کے ہیں اور اس کے شارح ابراہیم وزیر یعنی امیر یمانی نے ایک دو صحابہؓ کو عدالت سے مستثنیٰ کیا ہے، چنانچہ الصحابۃ کلھم عدول سے استثناء کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ إلا من قام الدلیل علی أنہ فاسق تصریح 
(توضیح الافکار: جلد، 2 صفحہ، 436)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں مگر جس پر کوئی دلیل قائم ہو جائے کہ وہ صریح بے حکم تھا۔
پھر حضرت ولید بن عقبہؓ اور حضرت یسر بن ابی ارطاۃؓ کا ذکر کیا ہے اور امیر یمانی روض الباسم فی الذب عن سنتہ ابی القاسم، صفحہ، 120‘‘ پر بھی عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
صفحہ 5 از 6