اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 6
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر سب امت متفق ہے اورجو فتنہ میں مبتلا ہوئے اجماع میں قابلِ اعتماد علماء کے اجماع سے وہ بھی عادل ہیں ان پر حسنِ ظنی رکھتے ہوئے اور جو کچھ ان کے لیے فضائل منقول ہیں ان پ رنظر رکھتے ہوئے یہ عقیدہ ضروری ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ان کی عدالت پر اجماع قائم کرا دیا، کیونکہ وہ شریعت کے نقل کرنے والے ہیں۔ 
(علوم الحدیث: صفحہ، 265)
علی بن محمد علامہ سخاویؒ المتوفی (663ھ) فتح المغیث جلد، 4 صفحہ، 35 پر رقم طراز ہیں:
إن للصحابۃ شرفا عظیما یمنع ما حبھا میزۃ خاصۃ وھی أن جمیع الصحابۃ عند من یعتد بہ من أھل السنۃ سواء من لابس الفتن منھم ولم یلابس عدول۔ 
(کما فی باعث المحیثث: صفحہ، 205)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے ایک بڑا شرف ہے۔ جو صحابیؓ کو خاص امتیاز بخشتا ہے وہ یہ ہے کہ جمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قابلِ اعتماد علماء اہلِ سنت کے نزدیک عادل ہیں خواہ فتنہ سے دوچار ہوئے ہوں یا نہ۔
علامہ محمد بن اسماعیل حسنیؒ (امیر یمانی) المتوفی 1182ھ لکھتے ہیں:
ومن مھمات ھذا الباب ای باب معرفۃ الصحابۃ القول بعدالۃ الصحابۃ کلھم فی الظاھر اعلم انہ استدل الحافظ بن حجر فی اول کتاب الإصابۃ علی عدالۃ جملۃ الصحابۃ اتفق أھل السنۃ علی أن الجمیع عدول ولم یعالو فی ذلک الاشذوذ من المبتدعۃ
(توضیح الافکار: جلد، 2 صفحہ، 234)
ترجمہ: معرفتہ الصحابہ کے باب کے اہم مسائل میں سے یہ مسئلہ بھی ہے کہ ظاہراً تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت کا اعتقاد رکھا جائے۔ جاننا چاہیے کہ حافظ ابنِ حجرؒ نے اصابہ کے شروع میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت پر (آیاتِ قرآنیہ سے) استدلال کیا ہے، تمام اہلِ سنت اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں اور اس میں اہلِ سنت سے اختلاف صرف اہلِ بدعت کے چند افراد نے کیا ہے۔
مولانا عبدالعزیز فرہاروی المتوفی (1300ھ) کوثر النبی، صفحہ، 79 میں لکھتے ہیں:
اجمع اھل السنت علی ان الصحابۃ کلھم عدول
ترجمہ: تمام اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں۔
علماء اصولِ فقہ کی شہادت:
شیخ محمد خضریؒ کی کتاب اصول فقہ: صفحہ، 218 پر ہے:
الصحابۃ کلھم عدول
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عدول ہیں۔
مسلم الثبوت: صفحہ، 194 میں علامہ بہاریؒ لکھتے ہیں:
الأکثر الأصل فی الصحابۃ العدالۃ
ترجمہ: اکثر امت کا مذہب ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں عدالت اصل ہے۔
علامہ ابنِ حاجبؒ کی تالیف شرح مختصر المنتہی جلد، 2 صفحہ، 67 پر ہے:
الأکثر علی عدالۃ الصحابۃ أقول أکثر الناس علی أن الصحابۃ عدول
ترجمہ: امت کی اکثریت عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قائل ہے میں کہتا ہوں کہ اکثر لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں۔
یہاں الاکثر اور اکثر الناس سے مراد جمیع امت کی اکثریت ہے اہلِ سنت کی اکثریت مراد نہیں کیونکہ اہلِ سنت تو سب کے سب عدالتِ جمیع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قائل ہیں۔
مسلم الثبوت کی شرح فواتح الرحموت: جلد، 2 صفحہ، 401 پر ہے:
إن عدالۃ الصحابۃ مقطوعۃ لاسیما أصحاب بدر و بیعۃ الرضوان کیف لا وقد اثنی اللّٰہ تعالیٰ علیھم فی مواضع عدیدۃ من کتابہ وبین رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فضائلھم غیر مرۃ
ترجمہ: صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت قطعی ہے خصوصاً اصحابِ بدر اور بیعتِ رضوان والوں کی قطعی کیوں نہ ہو، جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ان کی تعریف اور رسول اللہﷺ نے کئی مرتبہ ان کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
اسی کتاب میں دوسرے مقام پر بحث عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فرماتے ہیں:
جاننا چاہیے کہ ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت قطعی ہے جو جنگِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک رہے۔ کسی مومن کے لائق نہیں کہ ان کی عدالت میں شک کرے، بلکہ جو لوگ فتحِ مکہ سے قبل ایمان لائے وہ بھی قطعی عادل اور مہاجرین رضی اللہ عنہم و انصار رضی اللہ عنہم میں داخل ہیں۔ البتہ فتح مکہ کے دن اسلام لانے والوں میں اشتباہ ہے، کیونکہ کچھ ان میں مؤلفۃ القلوب (جن کو مال دے کر اسلام کی طرف مائل کیا گیا) ہیں اور انہی کے بارے میں اختلاف ہے ہمارے ذمے واجب ہے کہ ان کا ذکر بھلائی ہی سے کریں، خوب سمجھ لو۔
لیکن ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ فتح مکہ کے دن اسلام قبول کرنے والوں کا معاملہ متوقف اور مشتبہ ہونا صحیح نہیں ہے کیونکہ سورة حدید کی آیت کریمہ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ ۞ الخ (سورۃ الحديد: آیت 10) قطعیت سے ان کے جنتی ہونے پر دلالت کرتی ہے اور مؤلفۃ القلوب بھی کامل الایمان تھے۔
اولاً: اس لیے کہا اگر ان کو مذبذب یا مشکوک الایمان سمجھا جائے تو وہ زکوٰۃ کا مصرف کیسے ہو سکتے ہیں، جب کہ مصارفِ زکوٰۃ کے لیے مسلم ہونا شرط ہے۔
ثانیاً: اس لیے کہ تالیفِ قلوب کے اس طرز نے ان کو مزید پختہ اور اسلام کا وفادار بنا ہی دیا ورنہ تالیفِ قلوب کی مشروعیت اور اس پر عمل درآمد کا کوئی فائدہ نہیں۔ (فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ)
علماء علمِ عقائد و کلام کی شہادت:
اب علماء متکلمین و عقائد کے چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔
محقق ابنِ ہمامؒ کی تحریر الاصول اور اس کی شرح تقریر الاصول: جلد، 2 صفحہ، 260 پر ہے:
علی أن ابن عبدالبرؒ حکی إجماع أھل الحق من المسلمین وھم أھل السنۃ والجماعۃ علی أن الصحابۃ کلھم عدول
ترجمہ: علاوہ ان دلائل کے علامہ ابنِ عبدالبرؒ نے اہلِ حق مسلمانوں کا جو اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں۔ اس عقیدہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں۔
پر آگے لکھتے ہیں:
وقال السبکی: والقول الفصل إنا نقطع بعدالتھم من غیر التفات الیٰ ھذیان الھاذین وزیغ المبطلین وقد سلف اکتفائنا فی العدالۃ بتزکیۃ الواحد منا فکیف بمن زکاھم علام الغیوب الذی لا یعزب عن علمہ مثقال ذرۃ فی الأرض ولا فی السماء فی غیر آیاتہ
صفحہ 4 از 6