اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 6
کہ مازری کے اس قول کی کسی نے موافقت نہیں کی، بلکہ محققین اور فضلاء کی ایک جماعت نے اس پر طعن کیا ہے، شیخ صلاح الدین علائیؒ کہتے ہیں کہ مازری کا یہ قول نادر ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو صحابیت اور روایت میں مشہور ہیں ان کو عادل نہ کہا جائے، جیسے سیدنا وائل بن حجر مالک بن الحویرثؓ اور سیدنا عثمان بن ابی العاصؓ وغیرہم جو آپﷺ کی خدمت میں وفد کی صورت میں حاضر ہوئے تھے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر چلے گئے تھے اور اسی طرح اس قول سے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی عادل نہ ہوں گے جن کی روایتِ حدیث صرف ایک ہے یا آپﷺ کی خدمت میں ان کی مقدارِ صحبت معلوم نہیں جیسے عرب کے قبائل وغیرہ۔
والقول بالتعمیم ھو الذی صرح بہ الجمھور وھو المعتبر 
(الاصابہ: جلد، 1 صفحہ، 11)
ترجمہ: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عادل کہنے کی ہی جمہور علماء امت نے تصریح کی ہے اور یہی معتبر مسلک ہے۔
خطیب بغدادیؒ الکفایہ فی علوم الروایت میں عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موضوع پر احادیث بہت کثرت سے مروی ہیں ان تمام کا تقاضا یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (منافی عدالتِ امور سے) طاہر ہوں اور قطعاً عادل اور برائیوں سے منزہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ان کی عدالت پر شہادت کے بعد۔ جو ان کے باطن سے واقف ہے۔ کوئی صحابی رضی اللہ عنہ ثبوتِ عدالت میں کسی مخلوق کی تعدیل کا محتاج نہیں اور وہ اسی وصفت پر سمجھے جائیں گے تاآنکہ کسی سے ایسے جرم کا ثبوت ہو جائے جو نافرمانی کے قصد ہی سے بلا احتمالِ غیر ہو سکتا ہو اور تاویل کی کوئی گنجائش نہ رہے تو عدالت کی نفی تسلیم کی جائے گی، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے جرم کے ارتکاب سے بری اور ان کی شان کو اس سے برتر بنایا ہے۔ علاوہ ازیں بالفرض خدا اور رسول اللہﷺ کی جانب سے ان کی مذکورہ ثناء و تعدیل نہ بھی ہوتی تو بھی ان کی مندرجہ ذیل سیرت ان کے قطعی عادل اور گناہوں سے صاف ہونے پر قوی شہادت تھی۔ مثلاً ہجرت، جہاد فی سبیل اللہ، نصرت رسول اپنی جان و اموال کی قربانی، اپنے آبا و اجداد کو اور اولاد کو قتل کرنا، دین کی خیرخواہی اور ایمان میں قوت اور پختگی وغیرہ۔
خلاصہ کلام یہ کہ ان کے بعد آنے والوں میں جن جن کا تزکیہ اور شہادتِ عدالت دی جائے گی ان سب سے وہ افضل ہیں۔ یہی مذہب تمام علماء امت اور قابلِ اعتماد فقہاء کا ہے۔
اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ: جلد، 1 صفحہ، 2 پر علامہ جزریؒ لکھتے ہیں کہ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب امور میں عام رواۃ کی صفات (حفظ اتقان وغیرہ) میں شریک ہیں، مگر جرح تعدیل میں نہیں، کیونکہ وہ سب کے سب عادل ہی ہیں ان پر جرح کی کوئی سبیل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ان کو پاک صاف اور عادل قرار دیا ہے اور یہ مشہور چیز ہے جس کے ذکر کی حاجت نہیں۔
علامہ قرطبی مالکی محمد بن احمد الانصاریؒ المتوفی (611 ہجری) لکھتے ہیں:
قلت فالصحابۃ کلھم عَدول أولیاء اللّٰہ تعالیٰ وأصفیائہ وحیرتہ من خلقہ بعد أنبیائہ ورسلہ ھذا مذھب أھل السنۃ والذی علیہ الجماعۃ من أئمۃ ھذہ الأمۃ۔
ترجمہ: میں کہتا ہوں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل اللہ تعالیٰ کے دوست اس کے برگزیدہ بندے اور انبیاء کرام علیہم السلام اور رسول اللہﷺ کے بعد اس کی سب مخلوقات سے افضل ہیں یہی اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے اور اس پر اس امت کے ائمہ کی ایک بڑی جماعت کا اعتقاد ہے۔ 
(تفسیر قرطبی: جلد، 16 صفحہ، 299)
علماء اصولِ حدیث کی شہادت:
امام نوویؒ اور جلال الدین سیوطیؒ المتوفی (911 ھجری) فرماتے ہیں:
الصحابۃ کلھم عدول مَن لَابَسَ الفِتَنَ وغیرھم فإجماع من یعتد بہ وقالت المعتزلۃ عدول إلا من قاتل علیھا وقیل اذا انفرد وقیل إلا المقاتل والمقاتل لہ وھذا کلہ لیس بصواب إحسانا للظن بھم وحملا لھم فی ذلک علی الاجتہاد الماجور فیہ کلھم منھم۔ 
(تقریب مع شرح تدریب الراوی: صفحہ، 400)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں فتنہ سے دوچار ہونے والے بھی اور دوسرے بھی اس پر معتمد ترین علماء کا اجماع ہے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ سے لڑنے والوں کے سوا سب عدول ہیں ایک قول یہ ہے کہ جب صحابیؓ تنہا روایت کرے (تو عادل شمار نہ ہو گا) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپس میں لڑائی کرنے والے عادل نہیں۔ یہ سب اقوال درست نہیں، تاکہ صحابیؓ سے حسنِ ظنی باقی رہے اور ان مشاجرات کو اس خطِ اجتہادی پر محمول کیا جائے جس میں ہر ایک کو اجر و ثواب ملے گا۔
سید قاسم الامذجافی المصباح، صفحہ، 211 پر لکھتے ہیں:
والصحابۃُ کلھم عَدُولٌ رضی اللہ عنہم سواء فی ذلکَ مَنْ لَابَسَ الفِتَنَ ومن لم یُلَابِسْھا وذلک مما لا یشتبہُ أحدٌ من المسلمین الذین انتھت علیھم زِعامۃ وعنھم تَصْدُر الاراء والحُجَج
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں خواہ فتنہ میں شریک ہوئے ہوں یا نہ اور یہ وہ عقیدہ ہے جس میں کسی ایسے مسلمان کو اشتباہ نہیں جن پر مسلمانوں کی قیادت ختم ہے اور انہی سے شرعی دلائل اور آراء منقول ہوتی ہیں۔
علامہ ابنِ صلاح ابوعمر و عثمان بن عبدالرحمٰنؒ المتوفی (643ھ) اپنے رسالہ علوم الحدیث المعروف بمقدمہ ابنِ صلاح، صفحہ،_264 میں لکھتے ہیں:
الثانیۃ للصحابۃ بأسرھم خصیصۃ وھی أنہ لا یُسئل عن عدالۃ أحد منھم بل ذلک أمر مفروغ عنہ لکونھم علی الإطلاق معدلین بنصوص الکتاب والسنۃ وإجماع من یعتد بہ فی الاجماع من الامۃ
ترجمہ: (دوسرا فائدہ) سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک خصوصیت ہے وہ یہ کہ کسی کی عدالت کے متعلق (باز پرس کا) سوال پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ مسئلہ طے شدہ ہے کیونکہ وہ مطلق کتاب و سنت کی نصوص اور تصریحات اور امت کے قابلِ اعتماد علماء کے اجماع سے عادل ہیں۔
پھر چند احادیث اور آیاتِ قرآنیہ پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
صفحہ 3 از 6