اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 6
قال عبداللّٰہ بن ہاشم الطوسی حدثنا وکیع قال سمعت سفیان یقول فی قولہ تعالیٰ قل الحمد للّٰہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، قال ھم أصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم 
(الاصابہ لحافظ بن حجر: جلد، 1 صفحہ، 13)
ترجمہ: عبداللہ بن ہاشم طوسی کہتے ہیں کہ ہم سے وکیع بن الجراح نے سفیان ثوریؒ سے یہ نقل کیا ہے کہ اس آیت کا مصداق حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ آپ کہیے سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے ان بندوں پر سلامتی ہو جن کو اس نے پسند کر لیا ہے۔
سہل بن عبداللہ تستریؒ المتوفی کہتے ہیں جو علم و زہد اور جلالتِ شان میں مشہور ہیں کہ جس نے حضور اقدسﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم نہیں کی وہ صحیح طور پر حضور اکرمﷺ پر ایمان نہیں لایا۔  
(رسالہ تائید مذہب اہلِ سنت: صفحہ، 52 از مجدد الف ثانیؒ)
علامہ مبارک بن محمد بن اثیر جزریؒ المتوفی (606ھ) لکھتے ہیں:
الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم أجمعین عدول بتعدیل اللّٰہ عزوجل ورسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا یحتاجون إلی بحث عن عدالتھم وعلیٰ ھذا القول معظم المسلمین من الأئمۃ والعلماء من السلف والخلف 
(جامع الاصول من احادیث الرسول: جلد، 1 صفحہ، 73)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریمﷺ نے ان کی تعدیل کر دی ہے ان کی عدالت کے متعلق بحث کرنے کی حاجت نہیں اسی اعتقاد پر مسلمانوں کے سربرآوردہ ائمہ کرامؓ اور متقدمین متاخرین علماء کرام چلے آ رہے ہیں۔
حافظ محی الدین ابو زکریا بن شرف النوریؒ المتوفی (671ھ) رقم طراز ہیں:
ولھذا اتفق أہل الحق ومن یعتد بہ فی الإجماع علی قبول شھاداتھم وروایاتھم وکمال عدالتھم رضی اللّٰہ عنہم اجمعین۔ 
(شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 272)
ترجمہ: اس لیے اہلِ حق جماعت اور جن کا اجماع معتبر ہے صحاہۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مروی احادیث کی قبولیت ان کی شہادت کی صداقت اور کامل عدالت پر متفق ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو چکا۔
حافظ ابوعمرو یوسف بن عبداللہ المعروف بابنِ عبدالبرؒ المتوفی (463ھ) الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب کے آغاز میں لکھتے ہیں:
سنن نبویہ کی حفاظت اور معین اسباب میں سے ان حضرات کی معرفت بھی ہے جنھوں نے سنن نبویہ (علی حبہا الصلوٰۃ والتسلیم) کو اپنے نبی سے نقل کر کے سب لوگوں تک پہنچایا اور اس کی کما حقہ حفاظت اور تبلیغ کی ہے۔ وہ لوگ آپﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حواری ہیں کہ انھوں نے سنت کو محفوظ کیا اور اسلام و مسلمانوں کی خیرخواہی سمجھ کر اس فریضہ کو ادا کیا حتیٰ کہ ان کی نقل اور روایت سے دین مکمل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی حجت مسلمانوں پر ثابت ہو گئی۔ یہی لوگ سب سے افضل اور سب امت سے بہتر تھے جو لوگوں کی تبلیغ کے لیے بھیجی گئی۔ ان تمام کی عدالت ثابت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اکرمﷺ نے ان کی تعریف بیان کی ہے ان لوگوں سے بڑھ کر کوئی عادل نہیں ہو سکتا جن کو اللہ نے اپنے نبی کریمﷺ کی صحبت اور مدد کے لیے چن لیا۔ اس سے بڑھ کر نہ کوئی تزکیہ کا مقام ہو سکتا ہے اور نہ ثبوتِ عدالت اس سے اکمل طریقے سے ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ ۞ الخ (سورۃ الفتح: آیت 29)
آگے اسی کتاب کے صفحہ، 9 پر لکھتے ہیں۔
وإن کان الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم قد کفینا البحث عن أحوالھم الجماع أھل الحق من المسلمین وھم أھل السنۃ والجماعۃ علیٰ أنھم عدول
ترجمہ: اگرچہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہم کافی بحث کر چکے ہیں، کیونکہ اہلِ حق مسلمانوں کا جو اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں اس پر اجماع ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عدول ہیں۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ المتوفی (852ھ) الاصابہ، جلد، 1 صفحہ، 10 پر لکھتے ہیں:
وقال أبو محمد ابنِ حزمؒ الصحابۃ کلھم من أھل الجنۃ قطعا قال اللّٰہ تعالیٰ لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌۞ الآیۃ (سورۃ الحديد: آیت 10) وقال تعالیٰ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنبياء: آیت 101)
 فثبت أن الجمیع لأھل الجنۃ لأنھم یخاطبون بالآیۃ السابقۃ۔
ترجمہ: علامہ ابو محمد حافظ بن حزمؒ کہتے ہیں کہ سب صحابۂ کرامؓ اہل جنت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ الآیہ۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔ پس ثابت ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہلِ جنت میں سے ہیں، اس لیے کہ آیتِ سابقہ میں وہی (فتح مکہ سے قبل اور بعد والے مومن) مخاطب ہیں۔
اور یہ سوال کیا جائے کہ آیتِ مذکورہ میں انفاق اور قتال کی قید اور ایسے ہی احسان کی قید ہے کہ جو صحابی رضی اللہ عنہ ان صفات سے موصوف نہ ہو یہ آیت اسے شامل نہ ہو، حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عادل ہونے کے لیے یہ صریح آیتیں ہیں اسی لیے تو مازری نے شرح برہان میں لکھا ہے کہ الصحابۃ عدول سے ہر وہ صحابی رضی اللہ عنہ مراد نہیں جسے ایک دن یا کبھی ایک ساعت آپﷺ کی زیارت نصیب ہوئی یا کسی اور غرض سے آپﷺ کی خدمت میں آیا اور چلا گیا ہو، بلکہ اس سے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مراد ہیں جو کافی عرصہ آپﷺ کی خدمت میں رہے آپﷺ کی توقیر اور نصرت کی اور آپﷺ پر نازل شدہ نور کی پیروی کی تو علامہ ابنِ حزمؒ اس کا جواب یہ دیتے ہیں۔
والجواب عن ذلک ان التقییدات المزکورۃ أخرجت تحرج الغالب وإلا فالمراد بالإنفاق والقتال بالفعل والقوۃ
ترجمہ: اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قیدیں تغلیبی طور پر لگائی گئی ہیں کہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انفاق اور قتال کرتے تھے) ورنہ انفاق و قتال سے مراد عام ہے۔ بالفعل کیا ہو یا بالقوۃ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں۔
اور حافظ ابنِ حجرؒ بھی اس قول کا تخطیہ یوں کرتے ہیں:
صفحہ 2 از 6