اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین -…

اجماع امت اور عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 6
ائمہ سلف و خلف اور تمام اہلِ سنت والجماعت کا اس عقیدہ پر اجماع چلا آ رہا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بغیر کسی استثناء کے عادل اور واجب التعظیم و الاحترام ہیں، ان کی روایت بلا چون و چرا قابلِ قبول اور واجب التسلیم ہے، ان میں سے کسی پر بھی طعن کرنا جائز نہیں۔ ان کے آپس کے مشاجرات کی بحث سے رکنا چاہیے۔ ہاں! ان کے دامن کی صفائی بیان کرنے کے ذکر میں کوئی مضائقہ نہیں، جبکہ نیت صحیح ہو۔ ان کی اجتہادی خطاؤوں کی صحیح تاویلیں ہیں۔
نیز یہ کہ اس پر بھی وہ ماجور ہوں گے، کیونکہ حدیثِ نبویﷺ میں آیا ہے کہ جب مجتہد اجتہاد کرے، اگر اجتہاد صحیح نکلے تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر غلط ہو جائے تو اس کو ایک اجر ملے گا۔ 
(صحیح بخاری و صحیح مسلم) 
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت براء بن عازبؓ کے صراحتاً اور بقیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احادیثِ نبویہ کے ضمن میں کئی ارشادات منقول ہیں، اس باب کا افتتاح ہم سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ المتوفیٰ 33ھ کے اس سنہری فرمان سے کرتے ہیں:
عن ابن مسعود قال من کان مستنًا فلیستن بمن قد مات فان الحی لا تؤمن علیہ الفتنۃ اولٰئک أصحاب محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانوا أفضل ھذہ الأمۃ وأبرھا قلوبا وأعمقھا علما وأقلھا تکلفًا اختارھم اللّٰہ لصحبۃ نبیہ ولإقامۃ دینہ فاعرفوا لھم فضلھم اتبعوھم علی أثرھم وتمسکوا بما استطعتم من أخلاقھم وسیرھم فإنھم کانوا علی الھدی المستقیم 
(رواہ رزین بحوالہ مشکوٰۃ: صفحہ، 32)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص سنت کا اتباع کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ فوت شدہ بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلے، اس لیے کہ زندہ پر فتنہ کا اندیشہ رہتا ہے۔ ایسے بزرگانِ دین حضرت محمدﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہیں جو سب امت سے افضل، سب امت سے زیادہ پاکیزہ دلوں والے سب امت سے بڑھ کر گہرے اور ٹھوس علم والے اور سب سے کم تکلف والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کریمﷺ کی صحبت کے لیے اور دین کی اقامت اور سربلندی کے لیے چن لیا۔ ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور ان کے اخلاق اور سیرت کو حتیٰ الوسع اپنانے کی کوشش کرو کہ وہ سیدھی راہ پر گامزن تھے۔
چار مذاہب کے ائمہ کی شہادت:
اب حضرات ائمہ اربعہ متبوعینؒ کے اقوال ملاحظہ ہوں:
امام اعظم نعمان بن ثابت ابوحنیفہؒ المتوفیٰ (150ھ) قرآن و سنت کے بعد بلا استثناء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو دین میں حجت سمجھتے تھے۔ کسی مسئلہ میں اگر کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے کچھ مروی ہوتا تو اپنا اجتہاد و رائے چھوڑ دیتے تھے۔
امام ابوحنیفہؒ کا یہ قول مشہور ہے:
اخذ بکتاب اللہ فإن لم أجد فبسنۃ رسول اللّٰہ فإن لم أجد فبقول الصحابۃ اٰخذ بقول من شئت منھم ولا أخرج عن قولھم الٰی غیرھم 
(تہذیب التہذی:، جلد، 1 صفحہ، 450 و مناقب ابی حنیفہؒ للذہبی)
ترجمہ: میں پہلے کتاب اللہ سے استدلال کرتا ہوں اگر اس میں مجھے دلیل نہ ملے تو رسول اللہﷺ کی سنت کو لیتا ہوں اور اگر اس میں بھی مجھے دلیل نہ ملے تو میں حسبِ مرضی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال سے استدلال کرتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کے قول کی طرف نہیں جاتا۔
سنن الکبرٰی للبیہقی میں امام شافعیؒ المتوفی (204ھ) سے منقول ہے:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ کسی مسئلہ میں جب تک قرآن و سنت میں دلیل موجود ہو تو اس کا علم رکھنے والے کو قرآن و سنت کی اتباع کے بغیر چارہ نہیں اور اگر قرآن و سنت میں دلیل نہ ہ وتو ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سب اقوال کی طرف یا ان میں سے کسی ایک کے قول کی طرف رجوع کریں گے۔
(کچھ آگے فرماتے ہیں) جب ائمہ (خلفاء راشدینؓ) سے کچھ ثبوت نہ ملے تو رسول اللہﷺ کے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کے امین ہیں، ہم ان کے اقوال لیں گے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع دوسروں کی اتباع کی بہ نسبت ہمیں زیادہ مناسب ہے۔ 
(ازالۃ الخفا: جلد، 1 صفحہ، 64 فصل دوم لوازم خلافت خاصہ)
حنفیہؒ کی اصول سرخسی جلد، 2 صفحہ، 106 پر امام مالکؒ المتوفی (176ھ) کا بھی یہی مذہب بتایا ہے۔ امام مالکؒ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکریم کا خاص اہتمام تھا، چنانچہ قاضی عیاض اور ملا علی قاریؒ شرح شفا میں فرماتے ہیں:
امام مالکؒ فرماتے ہیں جس نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو برا بھلا کہا خواہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی رضی اللہ عنہم ہوں یا حضرت امیرِ معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاصؓ ہوں اگر یوں کہا کہ وہ کافر اور گمراہ تھے تو یہ واجب القتل ہے اور اگر عام لوگوں جیسی گالی دے تو اسے سخت سزا دی جائے۔ 
(شرح شفاء لملا علی قاری: جلد، 2 صفحہ، 556)
الصارم المسلول علی شاتم الرسول، صفحہ، 573 پر علامہ ابنِ تیمیہؒ امام احمد بن حنبلؒ المتوفی (241ھ) سے نقل فرماتے ہیں:
خیر الأمۃ بعد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أبوبکر و عمر بعد أبی بکر و عثمان بعد عمر و علی بعد عثمان و وقف قوم وھم خلفاء راشدون مھدیون ثم أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعد ھؤلاء الأربعۃ خیر الناس لا یجوز لأحد أن یذکر شیئًا من مساوریھم ولا یطھعن علی أحد منھم بعیب ولا نقص فمن فعل ذلک فقد وجب تأدیبہ 
(قال فی الرسالۃ التی رواھا ابوالعباس محمد بن یعقوب الاصطخری)
ترجمہ: حضور اکرمﷺ کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ ہیں، سیدنا عمرؓ کے بعد حضرت عثمان غنیؓ ہیں، سیدنا عثمان غنیؓ کے بعد سیدنا علیؓ ہیں۔ (رضی اللہ عنہم)
(آخری قول میں) ایک جماعت نے توقف کیا ہے یہ ہدایت یافتہ خلفاء راشدینؓ تھے پھر چار حضرات کے بعد سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب سے افضل ہیں کسی کو جائز نہیں کہ ان کی برائی کرے، کسی میں کوئی عیب اور نقص کی وجہ سے اعتراض نہ کرے جس نے ایسا کیا اسے سزا دینی واجب ہے۔
یہ تصریحات عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متضمن اور مستلزم ہیں کما لا یخفی۔
محدثین کرام رحمہم اللہ کی شہادت
امام سفیان ثوریؒ المتوفی (167ھ) سے منقول ہے:
صفحہ 1 از 6