سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک مسجد امام اگر لوگوں کو اس طرح کی ہدایت کرے کہ سیدنا حسینؓ جنابِ محمد مصطفیٰﷺ کے اصحاب ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ ان سارے اصحاب سے سیدنا حسینؓ کا مرتبہ بلند ہے۔ بلکہ یہ بھی ساتھ کہے کہ حضورﷺ کے یہ سارے اصحاب، سیدناحسین رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔ کیونکہ سیدنا حسینؓ نے لکھ کر دیا تھا کہ آپ ہمارے غلام ہیں اور اصحابِ رسولﷺ نے سند سمجھ کر اپنے پاس رکھا ہوا خط قبر تک موجود رکھا۔ کیا ایسے عقائد رکھنے والے امامِ مسجد کے پیچھے اہل سنت والجماعت کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب: سوال میں درج کیا گیا عقیدہ ایک غلط عقیدہ ہے۔ اہل سنت حضرات کا متفقہ اور مسلمہ عقیدہ یہ ہے کہ حضراتِ شیخینؓ بلکہ خلفائے راشدینؓ تمام امت سے افضل ہیں۔ اس طرح کی ضعیف اور موضوع روایات سے استدلال کرنا علم کی نہیں بلکہ جہالت کی دلیل ہے۔ ایسے شخص کو امام نہ رکھا جائے، بلکہ فوراً معزول کر کے کسی معتمد صحیح العقیدہ عالم کو امام مقرر کیا جائے۔
(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 2 صفحہ 278)