سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر فضیلت کا عقیدہ رکھنے والے کو امام بنانا


سوال: ایک امامِ مسجد اگر لوگوں کو اس طرح کی ہدایت کرے کہ حضورِ اقدسﷺ کے اصحاب سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ ان سارے اصحاب سے سیدنا حسینؓ کا مرتبہ بلند ہے، بلکہ یہ بھی ساتھ کہے کہ یہ سارے اصحاب، سیدنا حسینؓ کے غلام تھے۔ کیونکہ سیدنا حسینؓ نے لکھ کر دیا تھا کہ آپ ہمارے غلام ہیں اور اصحابؓ نے سند سمجھ کر اپنے پاس رکھا ہوا خط قبر تک موجود رکھا۔

کیا ایسے عقائد رکھنے والے امامِ مسجد کے پیچھے اہل سنت والجماعت کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟

جواب:مندرجہ بالا عقیدہ محض غلط عقیدہ ہے۔ اہل سنت حضرات کا متفقہ اور مسلمہ عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ بلکہ خلفائے راشدینؓ تمام اشخاص سے افضل ہیں۔ اس طرح کی ضعیف اور موضوع روایات سے استدلال کرنا علم کی نہیں بلکہ جہالت کی دلیل ہے۔ ایسے شخص کو امام نہ رکھا جاوے، بلکہ فوراً معزول کر کے کسی معتمد صحیح العقیدہ عالم کو امام مقرر کیا جاوے۔ 

(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 1 صفحہ 374)