سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ: زید مسجد کی بجلی تعزیہ پر استعمال کرے یا نہ؟ اور اگر کرایہ بھی ادا کرے تو کیا وہ کرایہ مسجد پر خرچ ہو سکتا ہے یا نہ؟ قرآنِ مجید اور حدیث سے مسئلہ کا جواب عنایت فرماویں۔
جواب:مسجد کی بجلی وغیرہ کو کسی حرام موقع پر استعمال کرنا سخت ناروا ہے اور چونکہ تعزیہ نکالنا ناجائز ہے، کیونکہ سلفِ صالحین کے زمانہ میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ نیز ان تعزیوں میں ماتم اور باجہ نوحہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اس لئے موجبِ گناہ ہے۔ بموجب حدیث: نہیٰ رسول اللهِﷺ عن المراثی (الحدیث)
لہٰذا مسجد کی کوئی بھی چیز اس میں دینا گناہ پر مدد ہے۔ قال الله تعالیٰ: وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ
(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 1 صفحہ 795)