مسجد میں شیعوں کے صدقات و خیرات خرچ کرنے کا حکم - فتاویٰ…

مسجد میں شیعوں کے صدقات و خیرات خرچ کرنے کا حکم


سوال: اہل سنت والجماعت کی تعمیرِ مسجد پر شیعوں کی صدقات و خیرات کی رقم لگانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر یہ شیعہ غالی ہیں اور ان کے عقائد کفر کی حد تک پہنچے ہوں مثلاً وہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے متعلق تہمت کے قائل ہوں یا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحبت کے منکر ہوں یا حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی کے قائل ہوں یا قرآنِ کریم میں تحریف کے قائل ہوں یا سیدنا علیؓ کی الوہیت کے قائل ہوں وغیرہ تو ایسے اہل تشیع کے صدقات اور خیرات کی رقم تعمیرِ مسجد میں لگانا درست نہیں۔

اگر شیعہ غالی نہیں اور حضراتِ صحابہ کرامؓ کو سبّ و شتم وغیرہ نہ کرتے ہوں، محض سیدنا علیؓ کی افضلیت کے قائل ہوں تو ایسے شیعوں کو اپنے قریب کر کے انہیں احسن طریقے سے اہل سنت والجماعت بننے کی ترغیب دیں اور تبلیغ کریں، نیز اس صورت میں (چونکہ کفر کی حد تک نہیں پہنچے) اس لیے ان کے صدقات و خیرات قبول کر لینا اور تعمیرِ مسجد میں لگانا جائز ہے۔  (فتاویٰ مفتی محمود: جلد 1 صفحہ 598)