مفتی محمود رحمۃاللہ کا فتویٰ (شیخ الحدیث جامعہ قاسم العلوم…

مفتی محمود رحمۃاللہ کا فتویٰ (شیخ الحدیث جامعہ قاسم العلوم ملتان)


شیعوں کی مجالس میں شرکت کرنے والے کی امامت کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ کوئی امام مسجد جو کہ اہل سنت کی مسجد میں امامت کے عہدے پر فائز ہو اور اسے باقاعدہ تنخواہ ہر ماہ دی جاتی ہو۔ اگر وہ شیعہ کی مجالس میں شرکت کرے، نوحہ خوانی، مرثیہ جات وغیرہ پڑھے اور اپنے عقائد سنی بتائے تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جو شخص مرثیہ پڑھنا یا سننا جائز جانے اور تعزیہ نکالنا اچھا جانے اور اس میں شریک ہو، وہ سنی نہیں بدعتی اور ان کا شریکِ ہم خیال ہے۔ قال النبیﷺ: مَن تشبَّه بقومٍ فهو منهم۔ ایسے شخص کی اقتداء سے احتراز لازم ہے۔  (فتاویٰ مفتی محمود: جلد 1 صفحہ 260)