كيا شيعہ حافظ جماعت میں مل کر لقمہ دے سکتا ہے - فتاویٰ جات…

كيا شيعہ حافظ جماعت میں مل کر لقمہ دے سکتا ہے


سوال: اگر تراویح میں امام غلطیاں کرتا ہے اور سامع بھی چوک جاتا ہے اور شیعہ حافظ موجود ہے اگر وہ نیت کر کے اقتدار میں آکر بتائے تو عندالحنفیہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اگر شیعہ ایسا ہے کہ تبراء گو ہے اور نہ منکر صحبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہے اور نہ قائل قذف عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہے تو اس صورت میں لقمہ دینا جائز ہے، اس کے بتلانے سے لقمہ لینے والے کی نماز اور اس کے مقتدیوں کی نماز صحیح ہے۔ اور اگر وہ شیعہ غالی ہے جس میں امور مذکورہ موجود ہوں یعنی تبّرائی ہو اور منکر صحبت خلیفہ اول ہو اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے افک کا قائل ہو تو چونکہ ایسا رافضی مرتد و کافر ہے اس لیے اس کے بتلانے سے اور امام کے لقمہ لینے سے نماز امام کی اور اس کے مقتدیوں کی باطل ہو جاوے گی۔

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 4 صفحہ 220)