شيعہ مذہب والا سنیوں کی مسجد کا متولی نہیں ہو سكتا - فتاویٰ…

شيعہ مذہب والا سنیوں کی مسجد کا متولی نہیں ہو سكتا


سوال: ایک شخص کو منجانب سرکار کسی مسجد کے اوقاف کا متولی بنایا گیا کہ جو مذہب حنفی رکھتا تھا، اور اہل سنت و الجماعت رکھتا تھا مدت تک وہ تولیت اس کی اولاد میں رہتی رہی، اب متوفی مذکور کی اولاد شیعہ ہو گئی، اور مسجد میں تمام مقتدی اہل تسنن ہیں۔ اس صورت میں شیعہ عقیدہ کے خطیب یا امام کی اطاعت واقتداء جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر بوجہ اسناد شاہی کہ جو اس کے پاس موجود ہوں دعوی خطابت و امامت کا کرے وہ دعویٰ مسموع ہو گا یا نہیں؟

جواب:کتب فقہ میں تصریح ہے "مراعاة عرض الواقفين واجبہ" پس ظاہر ہے کہ اہل سنت و الجماعت شیعہ مذہب کو متولی و امام و خطیب مقرر نہیں کر سکتا۔ لہٰذا شیعہ مذہب شخص کو کوئی حق تولیت وغیرہ کا نہیں ہے، اور دعویٰ اس کا باطل ہے اور غیر مسموع ہے۔

(فتاویٰ دارالعلوم دیو بند مدلّل و مکمل: جلد 13 صفحہ 152)