سوال: مسجد کی افتادہ زمین میں جو وقف ہے، تعزیہ رکھنے کا امام باڑہ بنانا درست ہے یا نہیں؟ پہلے اس زمین میں دکانات تھیں جن کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتا تھا اب ان دکانات کے گر جانے سے امام باڑہ بنا لیا گیا؟
جواب: مسجد کی موقوفہ زمین میں امام باڑہ بنانا جائز نہیں ہے، بلکہ اس افتادہ زمین میں مکان یا دکانات بنوا کر کرائے پر دی جائے، اور اس کا کرایہ مسجد میں صرف کیا جائے۔ اور اگر مسجد کی زمین میں مکان امام باڑہ کے نام سے بنا لیا گیا ہے تو اس میں تعزیہ نہ رکھا جائے تعزیہ کو وہاں سے اٹھوا دیا جائے۔ اگر ویسے اٹھوانے میں دقت ہو تو بذریعہ حکام اور بذریعہ عدالت اٹھوا دیا جائے۔ اور اس مکان کو امام باڑہ کے نام سے موسوم نہ کیا جائے، بلکہ اس کو مسجد کا مکان کہا جائے اور کرائے پر دے دیا جائے برائے سکونت۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیو بند مدلّل و مکمل: جلد 13 صفحہ 271)