تعزیہ کی گذرگاہ کے لیے مسجد کے درختوں کی پھیلی ہوئی شاخیں…

تعزیہ کی گذرگاہ کے لیے مسجد کے درختوں کی پھیلی ہوئی شاخیں کاٹنا


سوال:ایک مسجد کے احاطے میں ایک درخت ہے اس کی شاخیں مسجد کی احاطے کی دیواروں کے باہر پھیلی ہوئی ہیں اور مسجد کے قریب ایک مکان قدیم ہے، مسجد اور مکان کے درمیان عام راستہ ہے، اسی راستے سے ایک بڑا تعزیہ نکلا کرتا ہے۔ مسجد مذکور مع جائیداد موقوفہ ہے، مکان مذکورہ عرصہ چھ سات ماہ کا ہوا راستہ مذکور کی جانب بڑھا لیا گیا ہے جس سے جگہ کی کشادگی میں کمی ہو گئی، اور تعزیہ مذکور کے نکلنے میں دقت ہو۔ لہٰذا ایسی حالت میں بمقابلہ تعزیہ مسجد مزکورہ کے درخت کاٹنا چھانٹنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:تعزیہ کی رعایت سے اس درخت کا کاٹنا چھانٹنا درست نہیں کہ تعزیہ کا نکالنا اور بنانا خود معصیت کبیرہ ہے، اس کے نکالنے کے لیے راستے کو درست کرنا اور اوپر سے درخت مسجد کو چھٹوانا درست نہیں ہے۔ کہ اس میں "اعانت على المعصیت" ہے۔

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلّل و مكمل: جلد 13 صفحہ 313)