سوال: او دیپور میں معماروں کی دو مسجدیں ہیں، ان مسجدوں کے نیچے تقریباً چودہ پندرہ دوکانیں ہیں، جن کی آمدنی سالانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار روپے کی ہے، اس میں سے تقریبا نصف آمدنی تو مسجدوں میں صرف ہوتی ہے اور باقی نصف روپیہ قوم کے لوگ تعزیہ بنانے میں صرف کرتے ہیں، اور محرم کے سویم کے روز کھانا پکا کر برادری کے لوگ کھا جاتے ہیں۔ یہ روپیہ جو مال وقف ہے برادری کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: وہ دوکانیں مسجد کے اوپر وقف ہیں، ان کی آمدنی تمام مسجد میں خرچ کرنی چاہیے۔ تعزیہ داری اور محرم کے سویم میں اس کو خرچ کرنا بالکل حرام ہے۔ بلکہ اس زائد آمدنی کو بھی مسجد کے لیے رکھنا چاہیے تاکہ آئندہ کو مسجد کی دوکانوں وغیرہ میں ترقی کی جاوے یا اور کوئی مکان وغیرہ خرید کر اس کا کرایہ مسجد میں خرچ کیا جاوے۔ برادری آدمیوں کو کھلانا اور سویم خلاف شریعت میں خرچ کرنا اس کا حرام اور ناجائز ہے۔
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 13 صفحہ 342)