سوال: ایک مسجد اہل شیعہ کی تعمیر کردہ ہے، اس مسجد میں جا کر اگر کوئی مولوی مناقب اصحاب ثلاثہؓ ( یعنی سیدنا ابوبکر سیدنا عمر، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے فضائل) بیان کریں تو سخت خطرہ ہے اور فساد برپا ہوتا ہے۔ اس صورت میں اگر اہل سنت و الجماعت دوسری جامع مسجد تعمیر کرا دیں تو وہ بحکمِ مسجدِ ضرار ہوگی یا نہیں؟
جواب: بصورتِ مذکورہ اہل سنت و الجماعت کو دوسری مسجد تعمیر کرانا ضروری و لابدی ہے تاکہ اہل سنت و الجماعت باطمینان بلا خوف و خطر اس میں نماز باجماعت و جمعہ ادا کریں، اورمناقب صحابہ وخلفاء راشدین رضی اللہ عنہم بیان کریں، اور احکام شرعیہ وعظ میں بیان کریں۔ اور جن حضرات کے حق میں اللہ تعالیٰ جل شانہ نے رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ فرمایا ہے۔ ان حضرات کے مناقب اور فضائل بلا خوف و خطر سنا دیں۔ پس ایسی مسجد بحکمِ مسجد ضرار کسی طرح نہ ہو گی۔ بلکہ مسجد ضرار کے مشابہ روافض کی مسجد ہے، جس پر مسجد ضرار کی تعريف "من بعض الوجوہ صادق" آتی ہے اور مسجد ضرار ایسے ہی منافقین کی بناء کی ہوئی تھی۔
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 14 صفحہ 48)