اہلسنت کی بنائی ہوئی مسجد کو آباد رکھنا ضروری ہے شیعوں کے…

اہلسنت کی بنائی ہوئی مسجد کو آباد رکھنا ضروری ہے شیعوں کے لیے نہ چھوڑنی چاہیے


سوال: ایک مسجد اوائل میں اہل سنت نے بنائی تھی، فی الحال بعض ان میں سے شیعہ بن گئے، اور ہمیشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر لعنت و تبراء حلال جان کر کرتے ہیں، اور خلافت و صحابیت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے منکر ہیں۔ اب تک تو دونوں فریق بدستور مسجد مذکور میں نماز پڑھتے چلے آئے ہیں۔ اب بعض اہل سنت کہتے ہیں کہ مسجد نو بناء کرنی چاہیے، ایسی مسجد میں نماز ناجائز ہے اور بعض سنی کہتے ہیں کہ یہی مسجد مشترکہ بصورت سابقہ کافی ہے مسجد نُو کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ پس کس گروہ کی رائے ٹھیک ہے؟

جواب:اہل سنت و الجماعت کو اس میں نماز ترک نہ کرنی چاہیے، کیونکہ جب کہ وہ مسجد بناء کردہ اہل سنت و الجماعت ہے تو اس کو آباد رکھنا ضروری ہے۔ اگر اہل سنت و الجماعت نے وہاں نماز و جماعت ترک کر دی تو ظاہر ہے کہ وہ ویران ہو جائے گی، اور اہل رفض کے شر و فساد سے اللہ تعالیٰ جلّ شانہ رہائی دے گا۔ اور اگر بذریعہ عدالت اس کے انسداد کی صورت ہو سکے تو وہ کی جائے، ورنہ منتقم حقیقی ان کو ہلاک و تباہ کرے گا۔ پس رائے اُن لوگوں کی صحیح ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اس مسجد کو چھوڑنا نہ چاہیے، البتہ تبراء گوئی وغیرہ کے انسداد کی فکر اور تدبیر کرنی چاہیے۔ 

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: مدلّل و مکمل: جلد 14 صفحہ 73)