سوال: شیعہ ہماری مساجد میں محفل میلاد میں شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں جھگڑا ہو رہا ہے؟ کہ لاٹھیوں کا پہرا ہے کہ سوائے سنیوں کے اور کوئی مسجد میں نہ جائے؟
جواب: جھگڑا اور لڑائی کرنا تو اچھا نہیں ہے، البتہ حکمت اور نرمی کے ساتھ ایسا انتظام کیا جائے کہ سنیوں کی مساجد میں اہل شیعہ نہ آئیں، کیونکہ اس فرقہ سے بالکل علیحدگی مناسب ہے، اور ربط وارتباط رکھنا ان کے ساتھ سنیوں کو جائز نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ ہمارے اکابرِ دین صحابہ کرام اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو برا کہتے ہیں اور سبّ و شتم کرتے ہیں بلکہ ان حضرات کو مسلمان بھی نہیں سمجھتے تو ہماری غیرتِ اسلامی کا یہ مقتضاء نہیں ہے کہ ہم ان کے ساتھ اتحاد و ارتباط رکھیں۔ حدیث شریف میں ہے "الحياء شعبة من الايمان"
پس یہ سخت بے حیائی کی بات ہے کہ جو لوگ ہمارے اکابر اور آنحضرتﷺ کے جانشینوں اور اسلام کے پھیلانے والوں (حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کے ساتھ ایسا اعتقاد رکھیں کہ وہ (معاذاللہ) دین کے دشمن ہیں اور مسلمان نہ تھے، اور منافق و کافر تھے وغیرہ وغیرہ، پھر ان لوگوں کے ساتھ ہم خوش ہو کر ملیں، اور ان کو اپنے ساتھ کھانے پینے میں شریک کریں یا ان سے رشتہ و نکاح کا تعلق رکھیں۔ حدیث شریف میں ایسے فرقوں کے بارے میں یہ وارد ہے کہ ان کے ساتھ ہو کر نہ بیٹھو، اور ان سے مناکحت کا تعلق نہ رکھو۔ اور یہ بھی حدیث شریف میں ہے کہ وہ لوگ ملعون ہیں، اور اللہ تعالیٰ جلّ شانہ ان کو مسخ کر کے بندر اور سور بنادے تو تعجب نہیں، اور اللہ تعالیٰ جلّ شانہ نے ان کے قلوب کو مسخ کر دیا ہے۔ پس ان سے ہر طرح سے علیحد گی اور پرہیز کرنا لازم ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیو بند مدلّل و مکمل: جلد 14 صفحہ 135)