سوال: تعزیہ بنانا اور اپنے مکان میں رکھنا اور اس پر چڑھاوا چڑھانا اور منت ماننا کیسا ہے؟ اور جس مسجد میں تعزیہ رکھا جاتا ہے اس میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ باوجود علم کے اس کے معاون اور مددگار ہوں، ان سے شرعاً کس قسم کا برتاؤ کیا جاوے؟
جواب: تعزیہ بنانا اور اس میں کسی قسم کی شرکت اور اعانت کرنا شرعاً حرام اور ناجائز ہے، اور اپنے مکان میں رکھنا اور اس پر نذریں چڑھانا اور منت مانگنا یہ سب امور حرام اور بنیاد شرک کی ہے۔ قال عليه الصلوة و السلام من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد:
اور جس مسجد میں تعزیہ رکھا جاوے اس مسجد کو اس سے پاک اور صاف کرنا اور تعزیہ کو وہاں سے اُٹھانا ضروری ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے خانہ کعبہ سے بتوں کو نکالا تھا اور توڑ کر پھینکوا دیا تھا۔ اسی طرح مسجد میں سے جو کہ "بیت اللہ" یعنی اللہ تعالیٰ جلّ شانہ کا گھر ہے بموجب احادیث صحیحہ کے تعزیہ کو جو کہ مشابہ بت کے ہے اور تعزیہ پرست مشابہ بت پرست کے ہیں نکال دینا ضروری ہے۔ کیونکہ مساجد کی تطہیر کا یعنی پاک رکھنے کا حکم ہے، نجاسات ظاہریہ اور نجاسات باطنیہ سے اور ظاہر ہے کہ تعزیہ نجاسات باطنیہ میں سے ہے، کیونکہ اس کے ساتھ معاصی کیے جاتے ہیں، اور "تلوث بالمعاصی" اس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پس پاک کرنا مساجد کا تعزیہ سے ضروری ہے۔
(الفتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 18 صفحہ 413)