جو امام تعزیہ داری میں شریک ہوتا ہے اور یہ کہتا ھے کہ تعزیہ…

جو امام تعزیہ داری میں شریک ہوتا ہے اور یہ کہتا ھے کہ تعزیہ داری ثابت ہے، اس کے پیچھے نماز کا حکم


سوال: الف: محرم میں تعزیہ سنیوں کو بنانا اور اس میں شریک ہونا کیسا ہے؟ اور سنیوں کا حاملینِ تعزیہ وغیرہ تماشائی لوگوں کو شربت و چائے پلانا کیسا ہے؟ اور سنیوں کو تعزیہ داروں کی تقریب میں شریک ہونا یا دعوت کھانا کیسا ہے؟

ب:اور جو امام مذکورہ باتوں سے لوگوں کو نہ روکتا ہو اور یہ کہتا ہو کہ تعزیہ داری ثابت ہے، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اور چونکہ ایسا امام جامع مسجد کا امام ہے تو کسی دوسری مسجد میں جمعہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: الف، ب: تعزیہ بنانا اور اس میں کسی قسم کی جانی و مالی مدد کرنا اور شریک ہونا اور حاملینِ تعزیہ کو شربت و چائے وغیرہ پلانا یہ جملہ اُمور حرام اور معصیت ہیں، اور مرتکب ان اُمور کے فاسق و فاجر و مبتدع ہیں، ایسے لوگوں سے اہل سنت والجماعت کو متارکت اور علیحدگی لازم ہے۔ اور ان کی کسی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں ہے، اور ان کی دعوت قبول کرنا جائز نہیں ہے، اور ایسے ایصالِ ثواب کا دعویٰ رسومِ مذکورہ کے ادا کرنے میں محض باطل ہے، اس سے کچھ ثواب شہدائے کربلا کی ارواح کو نہیں پہنچتا، بلکہ مرتکب ان بدعات و رسوم کے عاصی و آثم ہیں، اور ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور امام بنانا اس کو نا جائز ہے، اس کو معزول کرنا چاہئے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو ایسے مبتدع امام کی اقتداء کو چھوڑ کر کسی دوسری مسجد میں جمعہ ادا کرنا اور عالمِ صالح کو امام بنانا مستحسن ہے۔

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: مدلّل و مکمّل: جلد 18 صفحہ 413)