سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 7 از 7

ملّتِ اسلامیہ کے خلیفہ مستعصم باللّٰہ کا ایک شیعہ وزیر تھا جس کا نام تاریخ "ابنِ علقمی" بتلاتی ہے، علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے "تاریخُ الخلفاء" میں ابنِ علقمی کو کٹر شیعہ لکھا ہے۔ اس نے محض شیعہ اسٹیٹ قائم کرنے کے لیے تاتاریوں سے ساز باز کی۔ ہلاکو اور چنگیز کو بغداد پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ اور اس حملے کے نتیجے میں بغداد میں ہلا کو اور چنگیز نے مسلمانوں کا اس قدر قتلِ عام کیا کہ تاریخی روایات کے مطابق کئی دنوں تک دجلہ دریا کا پانی سرخ رہا۔ پھر بغداد میں مسلمان علماء و مفکّرین کی تحریر شدہ کتابوں کو دریا برد کر دیا گیا۔ جن کی سیاہی نے کئی مہینوں تک دجلہ کے پانی کو سیاہی مائل رکھا۔ اس طرح شیعہ سازش کے نتیجے میں دولتِ عباسیہ سخت ترین نقصان سے دوچار ہوئی اور بغداد، مسلمانوں کا مقتل بن گیا۔

 مصر کی فاطمی حکومت

تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مصر میں شیعوں کی فاطمی حکومت، وہ متعصب ترین حکومت تھی۔ جس میں اہلِ سنت عقیدے کا حامل ہونا اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دینے کے مترادف تھا۔ وہ تمام مسلمان ، جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفۂ برحق تسلیم کرتے تھے۔ اور ان عظیم شخصیات سے روحانی عقیدت وابستگی رکھتے تھے۔ اُنہیں فاطمی دور حکومت میں زندہ رہنے کا حق نہیں تھا۔ اگر کوئی مسلمان، زندہ رہتا تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ شیعہ مذہب قبول کرے، گویا فاطمی حکومت میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی میسر نہیں تھی اور شیعت نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔

 صفوی دورِ حکومت

1501ء سے قبل ایران میں اہلِ سنت واضح اکثریت میں تھے۔ لیکن 1501ء کے بعد جب اسماعیل صفوی شیعہ کا دورِ حکومت آیا تو اس سیاہ ترین دورِحکومت میں اہلِ سنت کا قتل عام روزمرہ کا معمول بن گیا۔

اہلِ سنت علماء کو چوکوں، چوراہوں پر بنے ہوئے سرکاری اسٹیجوں پر لایا جاتا۔ جہاں پر خلقِ کثیر پہلے سے یہ قیامت خیز منظر دیکھنے کے لیے موجود ہوتی۔ علمائے اہلِ سنت کو مجبور کیا جاتا کہ وہ اسٹیچ پر کھڑے ہو کر مجمعِ عام کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہؓ کے خلاف زبان طعن دراز کریں اور ان پر تبراء کریں۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو اُن کی جان بخشی ہو جاتی۔ بصورت دیگر اُنہیں قتل کر دیا جاتا۔

شیعہ حکومت کے ان مظالم و شدائد کے نتیجے میں بہت سے مسلمانوں نے شیعہ مذہب قبول کر لیا۔ جس کی وجہ سے آج ایران میں شیعہ اکثریت میں اور اہلِ سنت اقلیت میں ہیں۔

 متفرقات

تاریخ نے جن سیاہ ترین ادوارِ حکومت کی نشاندہی کی ہے۔ اُن میں ایک دور حکومتِ ہندوستان کے ایک شیعہ حکمران ، آصف خان کا بھی ہے۔ جس نے ایران سے نادر شاہ کو دہلی بلوایا اور جس طرح بغداد میں ابنِ علقمی نے چنگیز خان کے ذریعے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور بغداد کو تباہ و برباد کیا ، اسی طرح آصف خان نے بھی نادر شاہ کے ذریعے دہلی میں مسلمانوں کے خون کو پانی کی طرح بہایا اُس کے دورِ حکومت میں صرف اُسی شخص کی جان بخشی ہو سکتی تھی جس کے بارے میں سرکار کو یقین ہو جائے کہ وہ شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ 

اسی طرح کے بے شمار واقعات تاریخ کی کتابوں میں شیعہ کی مسلم دشمنی اور اسلامی دشمنی کو بے نقاب کرتے ہیں، تاریخ کا ہر طالب علم اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ ملّتِ اسلامیہ کے عظیم فرمانروا اور جرنیل صلاح الدین ایوبیؒ سے غداری کر کے مملکتِ اسلامیہ کو نقصان پہنچانے والے شیعہ تھے۔

  •  ترکوں سے غداری کر کے سلطان عبد الحمیدؒ کو معزول کرانے والے شیعہ تھے۔
  • اسلامی حکومت کے سربراہ نورالدین زنگیؒ پر قاتلانہ حملہ کے مرتکب شیعہ تھے۔
  • سلطان ٹیپوؒ سے غداری کرنے والا میر صادق شیعہ تھا۔ 
  •  نواب سراج الدولہؒ سے غداری کر کے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے والا میر جعفر شیعہ تھا۔ 
  • ملتان میں اہلِ سنت کے خون سے ہاتھ رنگین کرنے والا ابو الفتح داؤد شیعہ تھا۔
  • دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکتِ پاکستان کو دولخت کرنے والا حکمران یحییٰ خان شیعہ تھا۔
  • مسلک اہلِ حدیث کے جیّد اور متبحّر عالمِ دین اور عظیم اسکالر علامہ احسان الہی ظہیرؒ کے قاتل شیعہ تھے ۔ 
  • سپاہِ صحابہؓ پاکستان کے سب سے پہلے قائد و بانیٔ حضرت علامہ حق نواز جھنگویؒ کو شہید کرنے والے شیعہ تھے۔
  • چند سال قبل سعودی عرب میں حج کے موقع پر عین حرم پاک میں غیر قانونی جلوس نکالنے اور دہشت گردی کا مظاہرہ کر کے حجاج کرام کو ایذاء پہنچانے والے شیعہ تھے۔
  • سپاہِ صحابہؓ پاکستان کے نائب سر پرستِ اعلیٰ مولانا قاری ایثار القاسمیؒ کو شہیدکرنے والے شیعہ تھے۔
  •  مولانا عبد الصمدؒ آزاد سمیت جھنگ کے پانچ جید علماء کرام کو دن دہاڑے گولیوں کا نشانہ بنانے والے شیعہ تھے۔
  • جرنیلِ سپاہِ صحابہؓ مولانا محمد اعظم طارقؒ پر بموں اور راکٹوں سے حملہ کرنے اور مولاناؒ کے دو محافظوں کو شہید کرنے والے شیعہ تھے۔ 
  • لاہور اسٹیشن عدالت میں خطرناک ترین بم دھماکہ کر کے قائدِ سپاہِ صحابہؓ علامہ ضیاء الرحمن فاروقیؒ سمیت درجنوں پولیس اہلکاروں اور صحافیوں کو شہید کرنے والے اور جرنیل سپاہِ صحابہؓ علامہ محمد اعظم طارقؒ سمیت بیسیوں بے گناہوں کو شدید زخمی کرنے والے شیعہ تھے۔

شبیر: سلیم بھائی! میں آپ کا بے حد مشکور و ممنون ہوں کہ آپ نے میرے سامنے آج ایک ایسی حقیقت بیان کی جو آج تک میری نظروں سے پوشیدہ تھی۔ آپ یقین

جانیں مجھے آج تک خود یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمارے مذہب میں اس قدر خرافات ہونگی۔ لیکن آپ نے تو ایک مخفی حقیقت کو میرے سامنے مُنکشِف کر دیا۔ اور آپ نے شیعہ مذہب کے رد میں جو دلائل پیش کیے ہیں، اگر کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا تعصّب کی عینک اتار کر اِن دلائل پر غور کرلے تو وہ یقیناً شیعہ مذہب پر چار حرف بھیجتے ہوئے فی الفور تائب ہو کر صحیح اِسلام کی حقانیت کو تسلیم کر لے گا۔

آج مجھے دیر تو بہت ہوگئی لیکن آپ کے توسط سے اللّٰہ نے مجھ پر بہت سی حقیقتوں کو مُنکشِف کر دیا ۔ اللّٰہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

سلیم: مجھے بہت خوشی ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے آپ کو راہِ حق کا راہی بنا دیا ، خداوندِ عالم مجھے اور آپ کو حق و صداقت کی راہ پر گامزن رکھے۔

وما علينا الاالبلاغ 


صفحہ 7 از 7