سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 6 از 7

اب آپ ہی بتائیں کہ حضورﷺ نے ”اے کافرو!‘ کن لوگوں سے کہا تھا؟ مسلمانوں سے یا کافروں سے؟ ظاہر ہے کہ کافروں سے ہی اس آیت میں خطاب ہے۔ اور صاف لفظوں میں خطاب ہے کہ "اے کا فرو!“

معلوم ہوا کہ کافر کو کافر کہنا غلط نہیں بلکہ یہ تو اللّٰہ کا حکم ہے۔ اور حضورﷺ کی سنت ہے۔

ہاں! کسی کافر کو اگر آپ کسی کام سے بلانا چاہتے ہیں ۔ یا اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں یا وہ آپ کے سامنے جا رہا ہے اور آپ اُسے آواز دینا چاہتے ہیں تو اس وقت اُسے "کافر" کہہ کر نہیں بلکہ اُس کا نام لے کر اُسے آواز دو ۔ "او کافر" ! کہہ کر آواز دینا اخلاقاً صحیح نہیں ۔ اِسی چیز کی حدیث میں بھی ممانعت آئی ہے۔ لیکن کافروں کا کفر واضح کرنے کے لیے عوام کو بتانا کہ اِس قسم کے عقائد و نظریات رکھنے والا شخص یا طبقہ کافر ہے، گناہ نہیں بلکہ ضروری ہے، تا کہ عوام اس کے کفر سے آگاہ ہو کر اپنے اِیمان و اِسلام کو بچانے کی فکر کریں۔

 شبیر : تو سپاہِ صحابہؓ کا مقصد گویا یہ ہوا کہ شیعہ کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

سلیم : صرف یہ مقصد نہیں بلکہ سپاہِ صحابہؓ کے راہنما یہ بتاتے ہیں کہ سپاہِ صحابہؓ کا مقصد پاکستان میں نظامِ خلافتِ راشدہؓ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ لیکن اِس نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شیعہ ہے، حکمران اسے مسلمان سمجھتے ہوئے اس کی رائے کا بھی احترام کرتے ہیں اس لیے حکّام و عوام کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ شیعہ مذہبِ اسلام سے متصادم ہے اس لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے شیعہ کی رائے کا احترام ضروری نہیں۔

سلیم: اگر چہ دیگر تنظیمیں بھی نظامِ خلافتِ راشدہؓ کے نفاذ کی بات تو کرتی ہیں لیکن وہ تنظیمیں اہلِ تشیع کو مسلمان سمجھتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ملا کر خلافتِ راشدہؓ کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں جبکہ شیعہ خلفاءِ راشدینؓ ہی کو مسلمان تسلیم نہیں کرتا تو وہ اُن کے نظام کے نفاذ کے لیے کیا خاک تعاون کرے گا؟ بلکہ وہ تو پوری کوشش کرے گا کہ ملک میں خلفائے راشدینؓ والا نظامِ حکومت نافذ نہ ہو سکے اور وہ اس نہج پر کوشش کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران اور سیاستدان قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک اس نظام کے نفاذ میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اور جب تک شیعہ کے تعاون سے اِسلام کے نفاذ کی کوشش کرتے رہیں گے، کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اس لیے کہ شیعہ نے ہر دور میں اِسلام اور اہلِ اسلام کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاریخ اس پر شاہد ہے۔

*شیعیت ، تاریخ کے آئینے میں* 

شبیر: آپ نے تاریخ کی بات کی ہے۔ کیا آپ تاریخ میں شیعہ کی اِسلامی دشمنی کی کوئی مثال پیش کریں گے؟ 

 سلیم : جی ہاں ! اِسلام کے ابتدائی دور سے ہی شیعہ نے اِسلام دشمنی کو اپنا وطیرہ بنایا ہے۔ خلفائے راشدینؓ میں سب سے پہلے سیدنا عمرؓ کو شہید کیا گیا۔ جن کو ایرانیوں نے ایک سازش کے تحت فتوحاتِ فاروقی کا انتقام لینے کے لیے ایک کرائے کے غلام ابو لؤلؤ فیروز مجوسی سے شہید کروایا۔ اور شیعہ آج بھی قاتلِ فاروقِ اعظمؓ، ابولؤلؤ فیروز مجوسی کو "بابا شجاع "کہہ کر اُس سے اظہارِ عقیدت کرتے ہیں اور اس کے اس مکروہ فعل پر اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔

 *شہادتِ عثمانِ غنیؓ* 

سیدنا فاروق اعظمؓ کی شہادت کے بعد سیدنا عثمان غنیؓ کا دور خلافت آیا جس میں تقریباً 44 لاکھ مربع میل کے وسیع رقبے پر اِسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ دشمنانِ اِسلام اور دشمنانِ نظامِ خلافتِ راشدہؓ کو اِسلام کا یہ عروج ایک آنکھ نہ بھایا۔ اور اُنہوں نے اِسلام کے اس عظیم تاجدار کو شہید کر دیا۔ 

سیدنا عثمانؓ کا یومِ شہادت دشمنانِ اسلام کے لیے یومِ عید تھا۔ اور آج تک شیعه 18 ذوالحجہ کو، جو سیدنا عثمانؓ کا یوم شہادت ہے، "عیدِ غدیر" کے طور پر مناتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں، شیرینی تقسیم کرتے ہیں اور خوشی و مسرت کے طور پر نئے لباس پہنتے ہیں، اور اپنے اِس عمل سے وہ قاتلانِ عثمانؓ سے اظہارِ یَکجِہتی کرتے ہیں۔ 

 شہادت سیدنا علیؓ

سیدنا عثمان غنیؓ کے بعد سیدنا علیؓ کا دور خلافت آیا۔ ابتداء اسلام سے اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ مدینہ منورہ چلا آ رہا تھا۔ لیکن جب سیدنا علیؓ کا دور خلافت آیا تو ایک خفیہ سازش کے تحت اُنہیں دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اور پھر کوفہ میں سیدنا علیؓ کے لیے عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔ قدم قدم پر اُن کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور یہ رکاوٹیں ڈالنے والے اپنے آپ کو "شیعانِ علیؓ" کہتے تھے۔ یہ تمام حقائق شیعہ کی معتبر ترین کتاب "نہج البلاغة "میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ نتیجاً سیدنا علیؓ کو بھی شیعوں نے شہید کر دیا۔

 شہادتِ حسینؓ

سیدنا علیؓ کی کوفہ میں شہادت کے بعد شیعت کا اگلا نشانہ فرزندِ علیؓ نواسۂ رسولﷺ، سیدنا حسین بن علیؓ تھے۔ جن کو شہید کرنے کے لیے منظّم منصوبہ بندی کے تحت ہزاروں خطوط لکھ کر مدینہ سے کوفہ بلوایا گیا۔ اور جب وہ اہلِ کوفہ کے ظاہری اخلاص اور محبت سے متاثر ہو کر کوفہ پہنچے تو اُنہیں بھی میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔

چونکہ سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ کوفہ میں شہید کیے گئے ۔ جس کے بارے میں ایک شیعہ مجتہد نور اللّٰہ شوستری اپنی کتاب ” مجالس المومنین" کی مجلسِ اوّل میں رقمطراز ہے کہ "کوفہ اہلِ تشیع کا شہر تھا، جہاں اہلِ سنت نہ ہونے کے برابر تھے۔“

جب یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ کوفہ شیعوں کا شہر تھا، تو اِسی شہر میں سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ کا شہید ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں شخصیات کے قاتل کوفہ کے شیعہ ہیں۔ مزید ثبوت کے لیے شیعہ کی کتاب "جلاء العیون" کا مطالعہ کریں جس میں شہدائے کربلا کے ورثاء کااحتجاج تحریر ہے۔ کہ ہمیں ہمارے شیعوں نے بلوایا اور پھر شہید کر دیا۔

 *بغداد کی تباہی* 

صفحہ 6 از 7