سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 5 از 7

سلیم: آپ ماشاء اللّٰہ سمجھ دار ہیں اور یہ بات بڑی آسانی سے آپ کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اِسلام اور کفر بھلا کیسے یکجا ہو سکتے ہیں۔ جس طرح ہندو مسلم اتحاد، عیسائی مسلم اتحاد، یہود مسلم اتحاد، قادیانی مسلم اتحاد نہیں ہو سکتا ، اسی طرح شیعہ مسلم اتحاد بھی ناممکنات میں سے ہے۔ ہاں بعض ملکی ، سیاسی یا علاقائی مسائل کے حل کے لیے اتحاد ہو سکتا ہے۔

 شبیر: جب یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوگئی کہ شیعہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان سے سیاسی یا علاقائی اتحاد کیوں کیا جائے؟

سلیم: اگر ان سے اتحاد کیے بغیر کام چل سکتا ہو تو ان سے اتحاد نہ کرنا ہی بہتر ہے لیکن اگر کبھی ملکی یا سیاسی یا علاقائی معاملات میں ضرورت پڑے تو ان سے اتحاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لیے کہ سیاسی طور پر ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ نے بھی مدینہ میں یہود سے معاہدہ کیا تھا۔ اور یہ معاہدہ اسلامی اسٹیٹ کی بقاء اور استحکام کے لیے تھا۔

شبیر: ٹھیک ! میں سمجھ گیا لیکن ایک بات تو بتائیں۔ میں نے سنا ہے کہ کسی کافر کو "کافر" نہیں کہنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کل کو مسلمان ہو جائے ، کیا یہ بات صحیح ہے؟

سلیم: یہ بات کچھ معقول نظر نہیں آتی اس لیے کہ اگر کسی کافر کو کافرنہیں کہنا چاہیے شاید کہ وہ کل کو مسلمان ہو جائے تو پھر کسی مسلمان کو بھی مسلمان نہیں کہنا چاہیے، شاید کہ وہ کل کو کافر ہو جائے۔

پھر کسی بچے کو بھی بچہ نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو جوان ہو جائے۔

پھر کسی جوان کو بھی جوان نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو بوڑھا ہو جائے۔

پھر کسی زندہ کو بھی زندہ نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو مردہ ہو جائے۔

پھر کسی بیمار کو بھی بیمار نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو تندرست ہو جائے۔

پھر کسی تندرست کو بھی تندرست نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو بیمار ہو جائے۔

پھر کسی چور کو بھی چور نہیں کہنا چاہیے کہ شاید وہ کل کو چوکیدار بن جائے۔

پھر کسی وزیر کو بھی وزیر نہیں کہنا چاہیے۔ کہ شاید وہ کل کو صدر بن جائے۔ 

پھر کسی قیدی کو بھی قیدی نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو آزاد ہو جائے۔ 

پھر کسی آزاد کو بھی آزاد نہیں کہنا چاہیے۔ شاید کہ وہ کل کو قیدی بن جائے۔

بھئی سیدھی سی بات ہے کہ جو چور ہے اسے چور کہا جائے گا۔

جو ڈاکو ہے اسے ڈاکو کہا جائے گا۔

جو شریف ہے اسے شریف کہا جائے گا۔

جو وزیر ہے اسے وزیر کہا جائے گا۔

جو قیدی ہے اسے قیدی کہا جائے گا۔

اسی طرح جو مسلمان ہے اسے مسلمان کہا جائے گا۔ جو کافر ہے اسے کافر کہا جائے گا۔ ہاں ، جو مسلمان ہے اسے کافر کہنا اور جو کافر ہے اسے مسلمان کہنا واقعی غلط ہے۔ 

آپ ہی بتائیں کہ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ ابو جہل ، مسلمان تھا یا کافر؟ ابو لہب، مسلمان تھا یا کافر؟ فرعون ، مسلمان تھا یا کافر؟ نمرود، مسلمان تھا یا کافر؟ قادیانی مسلمان ہیں یا کافر؟ ، ہندو، مسلمان ہیں یا کافر؟ ، مجوسی ، مسلمان ہیں یا کافر؟ تو آپ مجھے کیا جواب دیں گے؟

شبیر: جن لوگوں یا جن طبقات کا آپ نے ذکر کیا ہے یہ تو واقعی کافر تھے۔

سلیم: تو پھر میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے کافروں کو کافر کیوں کہا؟ 

 شبیر: بھئی! یہ تو دنیا جانتی ہے اور تمام اہلِ اسلام نے بتایا ہے کہ مذکورہ لوگ یا طبقات غیر مسلم اور کافر ہیں۔ اس لیے ہم بھی بلا جھجک اُنہیں کافر کہتے ہیں۔ 

 سلیم: تو بات واضح ہوگئی ناں کہ کا فر کو کافر کہنا صحیح ہے اور بعض اوقات تو کافر کو کافر کہنا ضروری ہو جاتا ہے؟

شبیر: وہ کب؟

سلیم: جب لوگ کافروں کو مسلمان سمجھ کر اپنے ایمان کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔ جیسے آج اگر لوگ ابو جہل، ابولہب ، فرعون ، نمرود اور ہامان وغیرہ کو مسلمان سمجھنے لگ جائیں تو ظاہر ہے کہ اُنہیں یہ بتانا ضروری ہو جائے گا کہ جن کو تم مسلمان سمجھ رہے ہو مسلمان نہیں بلکہ کافر تھے۔ اور اگر ہم ، لوگوں کو نہیں بتائیں گے تو ہم بھی اللّٰہ کے ہاں مجرم ٹھہریں گے۔

چنانچہ جب یہ بات آپ پر واضح ہوگئی کہ شیعہ مسلمان نہیں ۔ اور عوام نا واقفیت اور کم عِلمی کی وجہ سے اُنہیں مسلمان سمجھ کر اپنا ایمان اور عاقبت برباد کر رہے ہیں۔ اُن سے رشتے ناطے کر رہے ہیں۔ اُن سے مسلمانوں والا برتاؤ کر رہے ہیں تو میری اور

آپ کی یہ مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم اُنہیں بتائیں کہ شیعہ مسلمان نہیں اس لیے اُن سے رشتہ ناطہ حرام ہے۔

شبیر: یہ تو آپ نے بڑی اہم بات بتائی۔ واقعی کسی غیر مسلم سے تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ تو جو لوگ شیعہ کو بیٹی کا رشتہ دیتے ہیں یا اُن سے رشتہ لیتے ہیں وہ تو بہت بڑا گناہ کر رہے ہیں؟

سلیم: اس میں کیا شک ہے۔ جب یہ حقیقتِ مسلمہ ہے کہ کسی غیر مسلم سے نکاح نہیں ہوتا اور شیعہ بھی غیر مسلم ہے تو نکاح کہاں ہوا؟ جب نکاح ہی نہیں ہوا تو اُسے رشتہ دینے کی صورت میں تو زندگی بھر "زنا" کا گناہ لازم آئے گا۔

شبیر: اور اِس صورت میں جو اولاد پیدا ہو گی وہ کس زمرے میں جائے گی ؟

 سلیم: آپ خود ما شاء اللّٰہ سمجھدار ہیں۔ خود ہی فیصلہ کر لیجیے کہ اولاد کسی زمرے میں جائے گی۔

 شبیر: اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جو لوگ شیعہ کے کفر سے ناواقفیت کی بناء پر اُن سے رشتے داریاں کر رہے ہیں، اُنہیں شیعہ کے کفر سے آگاہ کرنا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ورنہ اُن کے گناہ میں ہم بھی شریک ہونگے ؟

 سلیم: اگر ہم قدرت ہونے کے باوجود اُنہیں نہیں بتائیں گے تو یقینا ہم بھی اللّٰہ کے ہاں مجرم ہونگے ۔

شبیر : یہ جولوگوں میں مشہور ہے کہ کسی کافرکو بھی کافر نہ کہو، یہ غلط ہے؟ 

 سلیم: ظاہر ہے یہ عوام الناس کا پھیلایا ہوا شوشہ ہے، جبکہ قرآن پاک میں خود اللّٰہ رب العزت نے اپنے محبوب محمدﷺ کو حکم دیا ہے کہ کافروں کو کافر کہو۔

شبیر : قرآن میں یہ بات کہاں لکھی ہے؟

سلیم : دیکھیے ! قرآن پاک کے آخری پارے میں ایک سورت ہے۔ جسے "سورۃ الکافرون" کہتے ہیں۔ اس کی پہلی آیت میں ہے: ” قل یا ایها الکافرون" 

 ترجمہ : کہہ دیجیے (اے نبیﷺ) اے کافرو!۔

اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے خود حضورﷺ کو حکم دیا کہ کافروں سے اس طرح خطاب کرو کہ اے کافرو!

صفحہ 5 از 7