سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 4 از 7

سلیم: یہی بات تو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ سیدنا عثمانؓ ، سیدنا معاویہؓ اور یزید کو اللّٰہ نے ہی تو حکومت دی ہے۔ اور خُمینی کہتا ہے کہ میں ایسے خدا کو لائقِ عبادت نہیں سمجھتا۔ جس نے مذکورہ اشخاص کو حکومت دی ہے۔

شبیر: اب میری سمجھ میں بات آئی۔ یہ عبارت تو واقعی کُفریہ عبارت ہے۔ لیکن میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہورہا ہے کہ حکومت دینا اگر اللّٰہ تعالیٰ کا فعل ہے تو اس وقت دنیا میں بڑے بڑے فسّاق و فجّار بلکہ کافر قسم کے لوگ بھی حکومت کر رہے ہیں۔

اگر یہ نظریہ مان لیا جائے کہ حکومت اللّٰہ دیتا ہے تو گویا ان کافروں،فاسقوں، جابروں وغیرہ کو بھی حکومت اللّٰہ نے دی ہے۔

 سلیم: نہیں ، اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے۔

 "اعمالکم عمالكم " ( حديث )

ترجمہ : جیسے تمہارے اعمال ہونگے ویسے تمہارے حکمراں ہونگے ۔“

تو اللّٰہ تعالی پر حرف کیسے آئے گا ؟ اس کا قانون ہے جیسی عوام ہوگی ویسے ہی ان پر حکمران مسلّط کر دیئے جائیں گے۔ اگر عوام اپنے اندر اسلامی تبدیلی لائیں گے تو ان کے حکمران بھی پھر اُنہی میں سے ہونگے ۔ گویا جیسی عوام ویسے حُکام۔

 شبیر: میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ شیعہ قیامت کو بھی تو مانتا ہے؟ آپ ذرا وضاحت کریں کہ اس میں بھی کوئی اختلاف ہے؟ 

 سلیم: صرف قیامت کو مان لینا کافی نہیں بلکہ قیامت کے اُس تصور کو ماننا ضروری ہے جو اِسلام پیش کرتا ہے ۔ مثلاً ..... 

"فمن يعمل مثقال ذرة خيرايره ومن يعمل مثقال ذرة شرايره" . (سورة الزلزال پاره ۳۰)

 ترجمہ: اور جس نے ذرہ بھر نیک عمل کیا وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرا برابر برا عمل کیا وہ اسے بھی دیکھ لے گا ۔“ 

قرآن، قیامت کا یہ تصور پیش کرتا ہے کہ جہاں اچھے اور بُرے اعمال کے مطابق انسان کے ساتھ جزاوسزا کا معاملہ ہوگا۔

 شیعہ کا نظریہ قیامت

لیکن شیعہ کا نظریہ یہ ہے کہ چونکہ ہمارے دلوں میں اہل بیتؓ کی محبت ہے اس لیے ہمارا کوئی برا عمل یا گناہ ہمیں جہنم میں لے جانے کا باعث نہیں بنے گا۔ بلکہ جب اعمال کا وزن کیا جائے گا تو ترازو کے ایک پلڑے میں ہمارے تمام گناہ اور دوسرے پلڑے میں ایک پرچہ، جس پر یہ لکھا ہو گا کہ "یہ شخص اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنے والا ہے" رکھ دیا جائے گا۔ جس کے وزن سے محبت اہلِ بیتؓ والا پلڑا جھک جائے گا، اور وہ شخص جنت میں چلا جائے گا۔ ( ضمیمہ مقبول احمد دہلوی صفحه 454) 

اب آپ بتائیں کہ شیعہ "نظریۂ قیامت" میں بھی اہلِ اسلام سے متفق ہیں؟ 

 شبیر: یہ عجیب نظریہ ہے؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ دنیا میں جتنے چاہو گناہ کرتے رہو، بس دل میں اہلِ بیتؓ کی محبت ہونی چاہیے، جو جنت میں لے جانے کا سبب بن جائے گی ؟

سلیم : تو اور کیا؟ دنیا میں بھی مزے کرو اور آخرت میں بھی۔ ”بس شیعہ بن جاؤ۔“

 شبیر نہیں بھئی، دنیا میں تو مزے ہیں ہی لیکن آخرت میں ان کے لیے مزے کہاں؟ یہ تو ان کا خیال اور وہم ہے۔ ایسے تھوڑی جنت مل جائے گی ؟ یہ جنت تو نہ ہوئی خالہ جان کا گھر ہوا ؟

سلیم : میں اُنہی کے نظریے کی بات کر رہا ہوں کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ دنیا میں عیاشی کرتے رہیں اور آخرت میں اہلِ بیتؓ سے محبت کی بدولت جنت مل جائے گی۔ کیا خوب رہی ؟

رات کو خوب سی پی، صبح کو توبہ کرلی 

رند کے رند ہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی

 شبیر: کافی وقت بیت گیا ہے۔ آپ بھی یقیناً تھک گئے ہونگے لیکن چند چیزیں میرے ذہن میں کھنکتی ہیں۔ اگر آپ کو بوریت نہ ہورہی ہو تو پوچھوں؟

سلیم: ہاں، ہاں ضرور پوچھیں اور یہاں سے مطمئن ہو کر جائیں۔

شبیر: یہ بات تو سمجھ گیا کہ شیعہ کافر ہی نہیں بلکہ بدترین کافر ہے لیکن شیعہ کے علاوہ دنیا میں اور بھی تو کافر ہیں ۔ ہندو، سکھ، مجوسی ، یہودی، عیسائی، قادیانی وغیرہ سبھی کافر ہیں لیکن "سپاہِ صحابہؓ" والے صرف ایک ہی نعرہ لگاتے ہیں۔

"کافر ،کافر شیعہ کافر" 

وہ آخر کافر ،کافر، ہندو کافر ۔ کافر ،کافر ، سکھ ،کافر، کافر، کافر، مجوسی ،کافر یا کافر ،کافر،قادیانی ،کافر کے نعرے کیوں نہیں لگاتے ؟ صرف شیعہ کے کفر کا نعرہ لگانا اور دوسرے تمام کافروں کو نظر انداز کر دینا چہ معنی دارد؟

سلیم: اس کا صحیح جواب تو سپاہِ صحابہؓ والے ہی دے سکتے ہیں لیکن میری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہودیوں،عیسائیوں، مجوسیوں، قادیانیوں اور ہندوؤں کے بارے میں تو کسی کو شبہ ہی نہیں ۔ ہر چھوٹا بڑا مسلمان جانتا ہے کہ یہ غیر مسلم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مسلمان آج ان کافروں سے مسلمانوں والا برتاؤ نہیں کرتا۔ نہ ان کو شادی غمی میں بلاتا ہے نہ ان سے کوئی مسلمان رشتہ ناطہ کرتا ہے۔ اور نہ ان کی دعوتوں میں جاتا ہے۔ اس لیے کہ بچہ بچہ اُن کے کفر سے آگاہ ہے اور کوئی اُنہیں مسلمان تسلیم نہیں کرتا ۔ لہذا ان کے بارے میں اس اعلان کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ لیکن شیعہ کا معاملہ اُن سے الگ ہے۔ شیعہ کو ہمارے نا واقف مسلمان بھائی، مسلمان سمجھتے ہیں، اُن سے رشتہ ناطہ کرتے ہیں، اُن کی شادی، غمی میں شریک ہوتے ہیں، اُنہیں اپنی شادیوں اور غموں میں شریک کرتے ہیں۔ گویا اُن سے مسلمانوں والا برتاؤ کر کے اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں، اس لیے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور اُنہیں بتائیں کہ جسے آپ مسلمان سمجھ کر مسلمانوں والا برتاؤ کر رہے ہیں وہ حقیقت میں مسلمان نہیں۔ بلکہ اپنے کُفریہ عقائد کی بناء پر اِسلام سے خارج ہیں۔

شبیر: بات تو معقول ہے۔ اہلِ تشیع کے بارے میں عوام کی سوچ یہی ہے بلکہ بہت سے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ بھی شیعہ سُنی اختلاف کو معمولی نوعیت کا فروعی اختلاف سمجھ کر شیعہ سُنی بھائی چارہ کی فضاء قائم رکھنے کی ضرورت پَر زور دیتے ہیں۔ جبکہ شیعہ سُنی اختلاف، فروعی قسم کا اختلاف ہرگز نہیں بلکہ بنیادی عقائد میں شدید اختلاف موجود ہے۔ اور صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ شیعہ کے عقائد تو سراسر کفر پر مبنی ہیں جن کی موجودگی میں اُن سے اِتفاق و اِتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

صفحہ 4 از 7