سوال: جو مسلمان سبّ آلِ نبیﷺ کرے، ان کو گندی گالیاں دے جیسا کہ خوارج کرتے ہیں، اسی طرح سبّ صحابہؓ کریں جیسا کہ روافض کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے ساتھ مسلمانوں کو میل جول اور ہر قسم کا تعاون رکھنا چاہیے یا نہیں؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:ایسے شخص کی اقتداء ناجائز ہے۔ تمام مسلمانوں کو بحق و وقارِ صحابہؓ و آلِ رسولﷺ اس سے قطعِ تعلق کر دینا چاہیے، وہ مسلمان کے کسی تعاون کا مستحق نہیں۔ جو مسلمان اس کا تعاون کریں گے گنہگار ہوں گے۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وقال اللّٰہ تعالیٰ: فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: مدلّل و مکمّل: جلد 16 صفحہ 321)