سوال: اصحاب ثلاثہؓ کو جو شخص کافر کہے اس کی امامت و بیعت اور ان کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: شخصِ مذکور کافر ہے۔ ان لوگوں کی تعلیم و تلقین کے موافق عمل کرنا اور ان کو اپنا امام و پیشوا بنانا قطعاً جائز نہیں۔ قَالَ اللّٰہ تَعَالیٰ: وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ (سورۃ آل عمران: آیت 85)
اور ایسے گمراہ لوگوں سے قطعِ تعلقات کرنا ضروری ہے۔ قَالَ اللّٰہ تَعَالیٰ: فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ(سورۃالانعام: آیت 68)
لہٰذا حتی الامکان ان کے ساتھ نشست و برخاست سے احتراز کرنا چاہیے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: مدلّل و مکمّل: جلد 12 صفحہ 277)