شیعہ تبرائی کی امامت - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ تبرائی کی امامت


سوال: ایک شخص مذہب اہلِ تشیع کا رکھتا ہے حدیث شریف و فقہ کو نہیں مانتا اور اصحاب کبار رضی اللہ عنہم کی توہین کرتا ہے، گالی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور مجالس شیعہ میں مرثیہ خوانی کرتا ہے، ایسے شخص کے پیچھے تراویح اور نماز پنجگانہ میں اقتداء کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ شیعہ رمضان سے ہفتہ پہلے تائب ہو جاتا ہے اور رمضان کے بعد پھر افعال مذکورہ کرنے لگتا ہے۔

جواب: ایسے شخص کی اقتداء تروایح اور فرائض میں نہ کی جائے لیکن جس وقت وہ توبہ کر لیتا ہے اس وقت اس کی اقتداء درست ہو جاتی ہے اور اگر تجربہ اور بار بار کی اس کی اس حرکت سے یہ ظاہر ہو کہ اس کا عقیدہ وہی ہے جو کہ یہ بعد رمضان کیا کرتا ہے تو اس کو کبھی امام نا بنایا جائے تا وقت یہ کہ اس کی توبہ صادقہ کا یقین نہ ہوجائے۔

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند مدلل و مکمل: جلد 3 صفحہ 167)