شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں اسلافؒ اور اکابرینؒ کے…

شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں اسلافؒ اور اکابرینؒ کے فتاویٰ جات


مفتی اعظم عارف باللہ حضرت مولانا عثمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ(مفتی اول دارالعلوم دیوبند)

جو سنی نہ ہو اور شیعہ سے متاثر ہو اس کی امامت کا حکم:

سوال: ایک شخص جو کہ پہلے رافضی تھا اور درمیان قوم شیعہ و سنی امام بن کر آیا اور چونکہ اکثر لوگ سنی تھے اور اس نے اپنا طرز انداز نماز میں سنیوں کا سا رکھا اور جو لوگ اس کے شیعہ ہونے پر خیال رکھتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے اور اطمینان قلب کے واسطے یہ سوال پیش کرتے ہیں کہ اگر یہ امام اس فرقہ شیعہ پر جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر قذف لگاتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خدا جانتے ہیں اور جبرئیلؑ کا سہو نزول وحی میں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لعن طعن کرتے ہیں بالخصوص شیخینؓ کو (جو بموجب روایات ففہیہ کافر ہیں روا رکھتے ہیں اور قائل ہیں) لعنت کہے اور اپنا یہ عقیدہ بیان کرے جو اہلِ سنت والجماعت کا ہے کہ ایسے لوگ کافر ہیں تب یقین کر کے نماز پڑھتے ہیں ورنہ ہمیں اطمینان نہیں ہوتا جب تک صفائی نہ دے وہ شخص اس امر سے انکار کرتا ہے کہ یہ بات ہرگز نہیں کہوں گا، اس انکار سے اور شک بڑھتا ہے اس کے شیعہ ہونے کا آیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا ایسے شخص کی موجودگی میں جس کے پیچھے ایک عرصے بلاعذر نماز پڑھ رہے ہیں درست ہے یا نہیں؟

جواب: یہ ظاہر کہ اگر وہ شخص سنی ہوتا تو غلاۃ روافض کو جن کا اعتقاد حد کفر کو بالیقین پہنچا ہوا ہے اور باتفاق اہلِ سنت وہ کافر ہیں کافر کہنے اور ملعون کہنے میں اس کو کیا تأمل ہوتا پس جب کہ وہ شخص اس امر میں اہلِ سنت والجماعت کی موافقت نہیں کرتا تو ضرور وہ شخص شیعہ اور رافضی ہے یا رافضیوں کا طرف دار ہے بہر حال امام بنانے کے لائق نہیں ہے اور امام سابق جس میں کوئی وجہ عدم جواز و کراہت امامت کے نہیں ہے اسی کو امام رکھنا چاہیے۔

(فتاویٰ دار العلوم مدلل و مکمل: جلد 3 صفحہ 111)