اور اگر اپنی اولاد پر وقف کیا اور یہ شرط کی کہ جو شخص مذہبِ معتزلہ اختیار کر لے گا وہ وقف سے خارج ہو گا، تو جو شخص ان میں سے معتزلی ہوا وہ خارج ہو گا اور اسی طرح اگر واقف معتزلی مذہب ہو اور اس نے شرط کی کہ جو معتزلی مذہب چھوڑ کر اہلِ سنت کے مذہب سے اس کے سوائے اور کسی طرف انتقال کر لے گا پس خارجی یا رافضی ہو جائے گا تو وہ وقف سے خارج ہو گا پھر اگر ان میں سے کوئی شخص دینِ اسلام سے پھر کر مرتد ہو گیا، وہ وقف سے خارج ہو جائے گا اور واضح رہے کہ اس میں مردوں اور عورتوں کا حکم یکساں ہے۔
(فتاویٰ عالمگیریہ اردو: جلد 4صفحہ 159)