متعہ زنا محض ہے اور اس سے نسب وغیرہ ثابت نہیں ہوتے - فتاویٰ…

متعہ زنا محض ہے اور اس سے نسب وغیرہ ثابت نہیں ہوتے


سوال: متعہ کا کیا حکم ہے؟ کیا متعہ کا اسلام میں جواز ہے؟ یعنی نکاح کسی درجہ میں بھی منعقد ہو گا؟ ایک صاحب کہتے ہیں کہ اس کی گنجائش ہے یعنی نسب وغیرہ ثابت ہو جاتا ہے اگرچہ یہ نکاح فاسد ہو۔

جواب: متعہ کا اسلام میں کوئی جواز نہیں، متعہ کا نکاح باطل، کالعدم اور زنا ہے متعہ کہتے ہیں ایک ایسے عارضی عقد کو جس میں مدتِ انتہاء کو ابتداء میں متعین کر دیا جائے یا غیر معین مدت تک استمتاع وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے نکاح کیا جائے، یہ متعہ ہے اور باطل ہے شرعاً وہی نکاح معتبر ہے جو ہمیشگی کے لیے کیا جائے، نیز اس میں نسب، عدت وغیرہ کوئی حکم نہیں آتا لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے دوست کا نقطہ نظر غلط ہے متعہ باطل ہے اور اس میں نسب، عدت وغیرہ نکاح کے احکام جاری نہیں ہوتے، یہ زنا محض ہے۔ 

(نجم الفتاویٰ: جلد 4صفحہ 558)