سوال: اگر کوئی حنفی، سنی، مفتی، شیعوں کے مسائلِ میراث سے واقف ہو تو وہ استفتاء جس میں مورثِ اعلیٰ شیعہ ہو اور باقی مورث وارث سنی ہو، یا مورثِ اعلیٰ سنی ہو اور بقیہ مورث و وارث خواہ کل شیعہ ہوں خواہ بعض شیعہ و بعض سنی، پس ایسی صورت میں سنی مفتی ایسے استفتاء کا جواب کس طرح لکھے؟ آیا ہر طن میں اپنے اصول کے موافق لکھے؟ یا مورثِ شیعہ کے ترکہ و حصہ کو اصولِ تشیع کے موافق اور مورثِ حنفی و سنی کے ترکہ و حصہ کو اصولِ حنفیت کے مطابق؟ یا کیا صورت ہو گی؟
جواب: جو فرقہِ شیعہ کافر ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے جواب دینا شرعاً درست نہیں، بلکہ جو اسبابِ میراث اہلِ اسلام کے نزدیک معتبر ہیں انہی اسباب کے ماتحت ان کو بھی جواب دیا جائے گا اور جو فرقہ کافر نہیں بلکہ مسلم ہے، اس کو بھی حنفی سنی اپنے اصول کے مطابق جواب دے گا جیسا کہ اگر کوئی شافعی المذہب کسی مفتیِ حنفی سے امام شافعی صاحب رحمۃاللہ کے مذہب کے موافق کوئی مسئلہ دریافت کرے تو حنفی مفتی اس وقت امام شافعی صاحب رحمۃاللہ کے مذہب کے موافق جواب نہیں دے گا، امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ کے مذہب کے موافق جواب دے گا۔
مذہبِ شیعہ کے مطابق سوال کرنے سے مفتیِ سنی کو بطریقِ اولیٰ مذہبِ اہلِ سنت والجماعت کے مطابق جواب دینا چاہیے۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 20 صفحہ 500)