ترکہ کی تقسیم میں شیعوں کے مسلک پر عمل اور فتویٰ - فتاویٰ…

ترکہ کی تقسیم میں شیعوں کے مسلک پر عمل اور فتویٰ


سوال:اگر زید مدعی اثباتِ حق فرائض کے لیے عالمِ باعمل کو عدالت میں طلب کرے، پس اس شخص کو تائیدِ حقیقتِ مذہب کی چاہے یا موافقِ فرائضِ باطلہ؟ مذہبِ مورثِ شیعہ کی تائید کرے اور اثباتِ حقِ مدعی باطل کرے تو توریہ نہ کرے یا توریہ کر کے اس کا حق عدالت سے دلائے جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جواب یہ ہے کہ صورتِ مورث کے شیعہ اور وارث کے سنی ہونے میں، اگر حسبِ روایتِ دیگر علماء کے کوئی عالم میراث جاری کرے تو بموجبِ حکمِ شرع اور مذہبِ حق کے جواب لکھے اگر حسبِ مذہبِ روافض کے لکھے گا تو موردِ: وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ‏ 

(سورۃالمائدہ: آیت 47) 

کا ہو گا اور ضال مضل بنے گا ایسا فتویٰ اور ایسا حکم مردود ہو گا اور مفتی اور حکم فاسق ٹھہرے گا اور حکم اس کا رد کیا جائے گا۔ 

(باقیاتِ فتاویٰ رشیدیہ: صفحہ 297)