سوال:ایک شیعہ مذہب عورت کا ایک شخص نے کچھ زیور چوری کر لیا وہ عورت فوت ہو گئی یہ زیور اس خیال سے رکھا تھا کہ اس سے امام باڑہ بنوائے یا کسی مذہبی کام میں صرف کرے مرحومہ نے کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا اس کے مرنے کے بعد چور کے دل میں خوف پیدا ہوا، اب وہ اس زیور کی رقم کو کسی ایسی جگہ خرچ کرنا چاہتا ہے جو مالکہ کے لیے باعثِ اجر بنے از روئے شریعت رہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم کس مصرف میں لگائی جائے؟ مسجد یا مدرسہ یا طلباء کے مصارف وغیرہ میں؟
جواب:اگر اس عورت کا دور نزدیک کسی قسم کا وارث نہیں تو وہ روپیہ غرباء پر تقسیم کر دیا جائے۔ نادار طلبہ بھی مستحق ہیں، بیواؤں، یتیموں، اپاہجوں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ مسجد، مدرسہ اور راستے وغیرہ کی تعمیر یا کسی کی تنخواہ میں صرف نہ کیا جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ: جلد 20 صفحہ 503)