سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 5 از 6

 شبیر: آپ نے تو واقعی بہت سارے سربستہ راز میرے سامنے کھول دیے ہیں۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے مذہب میں بارہ اِمام ہیں جن کو معصوم سمجھا جاتاہے، لیکن یہ بات میرے علم میں نہیں تھی کہ ہمارے مذہب میں اِماموں کی اطاعت، نبی کی طرح فرض ہے، اِماموں پر وحی نازل ہوتی ہے، اِمام حلال و حرام کا اختیار رکھتے ہیں، اور قرآنی اَحکام کو بھی منسوخ کر سکتے ہیں۔ وغیرہ پھر امام خُمینی کی "حکومتِ اسلامیہ" کا حوالہ دیکر تو آپ نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، امام خُمینی کے حوالے سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام کا مرتبہ حضورﷺ سے بھی 

( نعوذ باللّٰہ ) بڑھ کر ہے۔ یہ روایات تو واقعی قابل توجّہ ہیں

سلیم : آپ خُمینی کی اتنی سی بات سے چونک گئے کہ اس نے بارہ اِماموں کو نبیوں سے بلند درجہ دیا ہے جبکہ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ خُمینی نے صرف بارہ اِماموں کو نبی سے بالا تر نہیں لکھا بلکہ اس نے اپنے آپ کو بھی نبی سے بلند درجہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؟

 شبیر: سلیم بھائی ! میں یہ بات کم از کم تسلیم نہیں کر سکتا کہ امام خُمینی نے اتنی بڑی جسارت کر ڈالی ہو کہ خود کو بھی حضورﷺ سے بالا تر ثابت کرنے کی کوشش کی ہو۔ یہ اُنہوں نے کہاں لکھا ہے؟ 

سلیم : دیکھیے ! میں آپ کے مذہب کے بارے میں جو کچھ بھی کہوں گا، اُس کا ثبوت ضرور دکھاؤں گا یہ دیکھیے ! میرے پاس خُمینی کا "وصیت نامہ" رکھا ہے، اس میں آپ خود یہ عبارت پڑھ لیجیے!

ایرانی عوام اور حضورﷺ کے صحابہؓ

 "میں پوری جرأت کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں ملتِ ایران اور اس کے لاکھوں عوام۔ رسول اللہﷺ کے عہد کی ملتِ حجازِ امیر المومنینؓ اور حسین بن علیؓ کے زمانہ میں کوفہ و عراق کی قوم سے بہتر ہیں۔“ (صحیفہ انقلاب صفحہ 33)

 شبیر: ٹھیک ، ٹھیک ، ٹھیک ! اب میری سمجھ میں آیا کہ خُمینی صاحب اپنے آپ کو "اِمام" کیوں کہلواتے ہیں۔ "اِمام "کا رتبہ چونکہ "انبیاء" سے اُونچا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس لیے خُمینی صاحب نے بھی اپنے آپ کو "اِمام" کہوا کر "انبیاء" سے اُونچی پرواز اُڑنے کی جسارت کی ہے ، بھئی یہ تو واقعی کُفریہ عقیدہ ہے۔ لیکن سلیم بھائی! اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک بات پوچھوں؟

 سلیم : جی ہاں ضرور پوچھیں !

 شبیر: میں نے سُنا ہے کہ اہلِ سنت بھی "اِمامت" کا عقیدہ رکھتے ہیں کوئی اِمام ابو حنیفہؒ کا مقلّد ہے تو کوئی اِمام شافعیؒ کا۔ کوئی اِمام احمد بنِ حنبلؒ کو تسلیم کرتا ہے تو کوئی اِمام مالکؒ کو۔ ہم اگر "عقیدۂ امامت "کی بناء پر کافر ہیں تو آپ بھی تو "عقیدتِ امامت" کی بناء پر کافر ہو سکتے ہیں؟ 

سلیم: ہمارا عقیدۂ امامت آپ لوگوں کے عقیدہ کی طرح نہیں بلکہ ہم مذکورہ چاروں اِماموں کو فِقہ کا اِمام مانتے ہیں کہ اُنہوں نے قرآن وحدیث سے فِقہی مسائل کو اِستنباط کیا، چنانچہ وہ اپنے اِس فن کے اِمام ہیں، جیسے موجودہ دور میں بھی کسی فن کے ماہر کو اِس فن کا اُستاذ ”ماہر" یا "ماسٹر“ کہہ دیتے ہیں۔ جبکہ اُسے معصوم، مفترض الطاعة ، احکامِ الٰہیہ کو منسوخ و معطّل کرنے والا وغیرہ نہیں مانتے ، اِس لیے ہمارا عقیدۂ اِمامت صرف اِتنا ہے کہ ہم ان آئمہ کہ فِقہ کا ماہر، ماسٹر، استاذ یا اِمام مانتے ہیں اور فِقہی مسائل کے لیے اُن سے رجوع کرتے ہیں۔ اِس سے زیادہ کچھ نہیں۔ 

شبیر : اچھا یہ بتائیں کہ ہمارے بارہ اِماموں کو انبیاء سے بلند درجہ دینے کے متعلق اِمام خُمینی کے علاوہ بھی کسی نے ایسی بات لکھی ہے؟

 سلیم : جی ہاں ! بہت سی روایات اِس موضوع پر آپ کی مذہبی کتابوں میں موجود ہیں۔ جن میں سے چند میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں !

یہ دیکھیے ! اصولِ کافی“ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

 عن محمد بنِ مسلم قال سمعت ابا عبد اللّٰهؒ يقول الائمة بمنزلة رسول اللّٰهﷺ الا انهم ليسوا بأنبياء(علیھم السلام)ولا يحل لهم من النساء ما يحل للنبىﷺ فأما ما خلا ذلك فهم فيه بمنزله رسول اللّٰهﷺ

 (اصولِ کافی صفحه 270 جلد۱)

ترجمہ: "محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آئمہ رسول اللّٰہﷺ کے ہم مرتبہ ہیں، مگر وہ نبی نہیں، جتنی عورتیں رسول اللّٰہﷺ کے لیے حلال تھیں اتنی ان کے لیے حلال نہیں اس کے سوا باقی تمام باتوں میں وہ حضورﷺ کے ہم مرتبہ ہیں۔“ 

 فائدہ : مذکورہ عبارت میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح آئمہ کو حضور اکرمﷺ کا ہم مرتبہ کہا گیا ہے، حالانکہ پوری امتِ مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ سابقہ تمام انبیاء (علیہم السلام) مل کر بھی حضورﷺ کے ہم مرتبہ نہیں ہو سکتے ، جو کسی بھی فرد و بشر کو حضورﷺ سے بالا تر یا آپﷺ کے ہم مرتبہ مانے وہ علماءِ امت کے نزدیک خارج اَز اِسلام ہے۔ مزید دیکھیے ! علامہ مجلسی کی "حقُ الیقین" میں یہ روایت ملاحظہ فرمائیے! 

 اکثر عُلماء شیعی را اعتقاد آنست که حضرت امیرؓ، وسائر ائمه افضل از پیغمبر ان سوائے پیغمبر آخرالزمانﷺ لله واحادیث مستفیضه بلکه متواتره از ائمه خود در این باب روایت کرده اند

( حق الیقین صفحه 70)

 ترجمہ : "اکثر علماءِ شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امیرؓ اور باقی آئمہ، آنحضرتﷺ کے سوا باقی تمام پیغمبروں سے افضل ہیں اور اس باب میں احادیث مستفیضہ بلکہ متواترہ آئمہ سے روایت کرتے ہیں "

فائدہ: مذکورہ روایت کی روشنی میں آپ انصاف کریں کہ جب آئمہ کو معصوم بھی کہاجائے ، منصوص من اللہ بھی کہا جائے ، ان پر ایمان لانا انبیاء کی طرح فرض بھی ہو، اور ان کا انکار انبیاء کے انکار کی طرح کفر بھی ہو، ان کی اِطاعت بھی ایسی فرض ہو جیسے رسول اللہﷺ کی ، ان پر وحی قطعی نازل ہوتی ہو، وہ تحلیل و تحریم کا اِختیار بھی رکھتے ہوں، ان کے پاس قرآنی اَحکامات کو معطّل یا منسوخ کرنے کا اِختیار بھی ہو، ان کا درجہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے برابر اور دوسرے تمام انبیاء سے بالا تر بھی ہو، اگر اِن تمام امور سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جائے کہ یہ عقیدۂ اِمامت محض انکارِ ختمِ نبوت ہی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے تو آپ کے پاس اس کے جواب میں کیا دلیل ہے؟

صفحہ 5 از 6