سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 4 از 6

(بحار الانوار صفحہ 334 جلد 25)

ترجمہ: "ثمالی کہتا ہے کہ میں نے سیدنا باقرؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کے لیے ہم نے حلال کر دی وہ چیز جو اس نے ظالموں کے مناصب میں سے حاصل کی وہ اس کو حلال ہے، کیونکہ یہ امر ہمارے اماموں کے سپرد کر دیا گیا۔ پس جس چیز کو وہ حلال قرار دیں وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام کر دیں وہ حرام ہے"

درج بالا عبارت پر کسی تبصرہ یا وضاحت کی ضرورت نہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شیعوں کے آئمہ کو حلال و حرام کا اختیار ملا ہوا ہے ۔

چھٹا عقیدہ: آئمہ کو اَحکام منسوخ کرنے کے اِختیارات

احکاماتِ الٰہیہ کو منسوخ کرنے کے اِختیارات کا مسئلہ "پانچواں عقیدہ" کے عنوان سے بھی میں بتلا چکا ہوں کہ حضور اکرمﷺ کو جس طرح بعض احکام باِذن الٰہی منسوخ کرنے کا اِختیار تھا اسی طرح آپ کے آئمہ کو بھی اِختیار تھا کہ جب چاہیں کسی چیز کے حلال ہونے کا فتویٰ صادر فرمادیں اور جب چاہیں کسی چیز کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر فرمائیں اور "آئمہ" کے بارے میں آپ کی مُعتبر مذہبی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ وہ اِن اِختیارات کو استعمال بھی کرتے تھے۔ مثلاً :

قرآن کریم میں ہے کہ مرحوم شوہر جو کچھ بھی چھوڑ کر مَرے اس میں بیوہ کا چوتھائی یا آٹھواں حصہ ہے۔ جیسا کہ اِرشاد خداوندی ہے:

 وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَين (سوره نساء آیت (12)

 ترجمہ: اور عورتوں کے لیے چوتھائی مال ہے اس میں سے جو چھوڑ کر مرو تم ، اگر نہ ہو تمہارے اولاد، اور اگر تمہارے اولاد ہے تو اُن کے لیے آٹھواں حصہ ہے اس میں سے جو کچھ تم نے چھوڑا۔ بعد وصیت کے جو تم کر کے مرو۔ یا قرض کے۔“

لیکن اِمام کا فتویٰ ہے کہ بیوہ کو شوہر کی غیر منقول جائیداد میں سے کچھ نہیں ملے گا، چنانچہ یہ کتاب "فروع کافی جلد7" ، میرے ہاتھ میں ہے اس میں (کتاب المواريث،" باب ان النساء لا يرثن من العقار شيئا") میں سےچند روایات پیش خدمت ہیں:

 سیدنا باقرؒ کا قول نقل کیا ہے:

" النساء لا يرثن من الارض ولا من العقار شيئاً " 

( فروع کافی صفحہ 127 جلد7) 

ترجمہ: "عورتوں کو اَراضی اور غیر منقول جائیداد میں سے کچھ نہیں ملے گا"۔

اِسی صفحہ پر دوسری روایت بھی پڑھ لیں ، جس کا ترجمہ ہے:

"اُس کو ہتھیاروں اور چوپایوں میں سے بھی کچھ نہیں ملے گا، ہاں مَلبہ وغیرہ کی قیمت لگا کر اُس میں سے اُس کا حق دے دیا جائے گا۔“

ذرا اگلی روایت بھی پڑھ لیجیے۔ جس کا ترجمہ ہے:

"سیدنا جعفرؒ نے اس کی محرومی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دخیل ہے نکاح کرے گی، تو دوسرے لوگ آکر اِن کی جائیداد کا ستیا ناس کر دیں گے۔“

مذکورہ روایات سے جو نتیجہ نکلتا ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے پورے تَرکہ سے بیواؤں کا چوتھائی یا آٹھواں حصّہ مقررفرمایا۔ لیکن، اماموں نے اپنے فتویٰ کے ذریعے بیواؤں کو شوہر کے ترکہ سے محروم کر دیا ، بس گھر کے سامان وغیرہ میں اُن کا حصہ ہے، اَراضی، باغات، غیر مَنقولہ جائیداد، ہتھیاروں اور چوپایوں میں ان کا کوئی حق نہیں۔ قرآن کریم کا حکم عام تھا جسے اماموں نے منسوخ کر دیا ۔“

"فروعِ کافی" ہی کی ایک اور روایت بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں آئمہ نے اللّٰہ تعالیٰ کے قانونِ شہادت کو معطّل کر دیا ہے

قرآن کریم میں قانونِ شہادت موجود ہے اور حضورﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے جو ("فروعِ کافی" کتاب القضاء والاحکام باب" ان البينة على المدعى واليمين على المدعی علیہ“ میں نقل کیا گیا ہے۔

"ان البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ"

(فروعِ کافی صفحہ 415 جلد7)

ترجمہ: "گواہ پیش کرنا مُدعی کے ذمہ ہے اور قسم مُدعا علیہ پر آتی ہے"

لیکن امام غائب جب ظاہر ہونگے تو وہ قانونِ شہادت کو معطّل فرمادیں گے، چنانچہ "اصولِ کافی کتاب الحُجّة“ میں ایک باب کا عنوان ہے۔ (باب فى الائمة انهم اذا ظهر امر هم حكموا بحكم آل داود (علیہ السلام) ولا يسئلون البينة)

 ترجمہ: یعنی جب آئمہ کی حکومت ہوگی تو حکمِ آل داؤد (علیہ السلام)کے مطابق فیصلہ کریں گے، شہادت طلب نہیں کریں گے۔ اس میں سیدنا جعفر صادقؒ کا ارشاد نقل کیا ہے۔

 اذا قام قائم آل محمدﷺ حکم بحكم داؤد (علیہ السلام) و سلیمان (علیہ السلام) لا يسأل بينة

(اصول کافی صفحہ 297 جلد (12)

 ترجمہ: ” جب قائم آل محمدﷺ ظاہر ہونگے تو داؤد (علیہ السلام)وسلیمان(علیہ السلام)کے حکم کے مطابق فیصلے دیں گے، شہادت طلب نہیں کریں گے۔“

الغرض اِن روایات سے واضح ہوا کہ اِمام جب چاہتے تھے قرآنی اَحکام کو منسوخ و معطّل کر دیتے تھے، جبکہ حضورﷺ کے بعد اللّٰہ رب العزت نے یہ اِختیار کسی کو نہیں دیا، اور نبیﷺ کے بعد کسی کو یہ اختیار دینا عقیدۂ ختمِ نبوت کی نفی ہے، پھر یہ اِختیار آپ کے مذہب میں کسی ایک اِمام کے لیے نہیں بلکہ بارہ اِماموں کے لیے ہے ۔ گویا بارہ اِماموں کو شیعہ منصبِ نبوت پر فائز کرنا چاہتا تھا، بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر خُمینی نے اپنی کتاب "حکومتِ اسلامیہ" میں تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے آئمہ کو جو مرتبہ عطا کیا اُس مرتبے تک نہ کوئی فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی رسول پہنچ سکتا ہے۔

( حکومتِ اسلامیه صفحه 40)

خُمینی نے تو اِمام کے مقام و مرتبہ کو تمام نبیوں سے بڑھا دیا ہے۔ تو آپ ہی بتائیں کہ قادیانیوں نے حضورﷺ کے بعد ایک شخص کو نبی مانا تو کافر قرار پائے ، اور آپ حضورﷺ کے بعد بارہ اِماموں کو انبیاء سے بلند تر مانتے ہیں تو آپ کافرقرار نہیں پائیں گے؟

صفحہ 4 از 6